لاہور سے کینیڈا تک… بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کے حساس اور کربناک موضوع پر مبنی پاکستانی مختصر فلم "پرمننٹ گیسٹ” کینیڈا میں ہونے والے سالانہ ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (TIFF) میں پیش کی جائے گی۔
رستی فاروق، نادیہ افگن، سلمان شاہد، علی طاہر اور حبائے زہرا جیسے منجھے ہوئے فنکاروں کی شاندار کارکردگی سے سجی یہ فلم انسانی احساسات کی گہرائیوں کو چھوتی ہے، اور جنوبی ایشیائی گھروں میں بچوں پر ہونے والے جنسی تشدد کے دیرپا اور اکثر نظر نہ آنے والے اثرات کو بے نقاب کرتی ہے . ایک ایسا موضوع جو پردۂ اسکرین پر شاذ و نادر ہی اس باریکی اور جرأت سے لایا جاتا ہے۔ اس فلم کو ثنا جعفری نے لکھا اور ڈائریکٹ کیا ہے، جو عالمی شہرت یافتہ فلم جوائے لینڈ کی شریک پروڈیوسر اور کاسٹنگ ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں۔ لاہور میں ترتیب دی گئی کہانی 26 سالہ فاطین اور اس کی ماں یاسمین کے گرد گھومتی ہے، جو محلے کی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوتی ہیں کہ اچانک فاطین کے 70 سالہ ماموں شبیر کی آمد سے ماضی کے زخم تازہ ہو جاتے ہیں اور کہانی میں ایک خاموش مگر کچل دینے والی کشیدگی سر اٹھا لیتی ہے۔ ثنا جعفری کے مطابق پرمننٹ گیسٹ دو نسلوں کے درمیان ایک ان کہے تصادم کو دکھاتی ہے , بزرگ جو خاموشی کو زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں اور نوجوان خواتین جو اس بوجھ کو سہتی ہیں مگر دل کے کسی کونے میں مزاحمت کی چنگاری سنبھالے رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کہانی صرف درد کی نہیں، بلکہ اس رویے کی بھی عکاسی کرتی ہے جس میں لوگ حقیقت کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں، اور یہ خاموشی زندہ بچ جانے والوں کو اکیلا تو کر دیتی ہے، مگر کہیں نہ کہیں انہیں مضبوط بھی بنا دیتی ہے۔
View this post on Instagram
یہ فلم نہ صرف فن کا ایک شاہکار ہے بلکہ پاکستان کے آزاد فلمی منظرنامے کی مزاحمت اور طاقت کی علامت بھی ہے۔ بغیر کسی سرکاری ادارے، بڑے میڈیا ہاؤس یا کمرشل سرمایہ کار کے، یہ منصوبہ مکمل طور پر عوامی فنڈنگ سے تیار ہوا , زیادہ تر تعاون پاکستانی شہریوں اور دنیا بھر کی پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے آیا۔

پرمننٹ گیسٹ اس لحاظ سے بھی تاریخی ہے کہ یہ TIFF کی 50 سالہ تاریخ میں صرف تیسری پاکستانی مختصر فلم ہے جس کا ورلڈ پریمیئر ہو رہا ہے، اور سب سے اہم بات ثنا جعفری، TIFF میں مختصر فلم پیش کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون ڈائریکٹر بن گئی ہیں۔







Discussion about this post