پشاور میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ اور مسافروں کی سلامتی کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے جامع اور مؤثر اقدامات کا اعلان کر دیا ہے، جن کا مقصد شہر میں آمد و رفت کو منظم اور محفوظ بنانا ہے۔علاقائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے سربراہ ریاض خان محسود کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں پشاور کی مجموعی ٹریفک صورتحال اور پبلک ٹرانسپورٹ آپریشنز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، جس کے بعد اصلاحاتی فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ نئے فیصلوں کے مطابق اب شہر میں چلنے والی تمام نجی ٹیکسیوں کے لیے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ رجسٹرڈ ٹیکسیوں کو ایک مخصوص رنگ سکیم اور کیو آر کوڈ اسٹیکرز فراہم کیے جائیں گے، جبکہ بغیر رجسٹریشن چلنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی، جرمانے اور ضبطی عمل میں لائی جائے گی۔

انتظامیہ نے شہر میں قائم 100 سے زائد غیر قانونی ٹرانسپورٹ آپریشنز فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے، جن میں غیر مجاز رکشے اور اسپیڈ اسٹیشنز شامل ہیں۔ ان غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کنٹریکٹرز کے خلاف گرفتاری کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔ ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے چارسدہ اور کوہاٹ روڈ پر غیر ضروری یوٹرنز ختم کرنے اور تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بی آر ٹی اسٹیشنز جو ٹریفک جام کا سبب بن رہے ہیں، انہیں کشادہ اور کھلے مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔ اجلاس میں طے پایا کہ اسسٹنٹ کمشنرز، ٹریفک پولیس اور ٹرانسپورٹ افسران پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں بی آر ٹی کوریڈور پر غیر قانونی رکشوں، قنگیز اور لوڈرز کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کریں گی۔ مزید اقدامات کے تحت ٹرکوں، ٹریکٹر ٹرالیوں اور دیگر مال بردار گاڑیوں کے لیے رات دس بجے سے قبل شہر کی اہم سڑکوں میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اور ریگولیٹری اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ سڑک کنارے قائم چیک پوسٹوں کو کھلے مقامات پر منتقل کیا جائے تاکہ ٹریفک کا بہاؤ متاثر نہ ہو۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات پشاور میں ایک محفوظ، منظم اور مؤثر ٹرانسپورٹ نظام کی جانب ایک مضبوط پیش رفت ثابت ہوں گے، جس سے نہ صرف ٹریفک مسائل کم ہوں گے بلکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات بھی میسر آئیں گی۔







Discussion about this post