ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے وزرائے خارجہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کو خطے میں عدم استحکام کا مرکزی ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ:
"نیتن یاہو کی حکومت مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسرائیل نے پہلے یمن، لیبیا اور شام کو نشانہ بنایا، اور اب ایران پر حملہ کر کے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔”
صدر اردوان نے ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام، خاص طور پر غزہ میں جاری ظلم و ستم، عالمی برادری کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہے۔
LIVE: Turkish President Recep Tayyip Erdogan speaks at the 51st session of Organisation of Islamic Cooperation in Istanbulhttps://t.co/w62uhYad78
— TRT World Now (@TRTWorldNow) June 21, 2025
OIC وزرائے خارجہ اجلاس: 1000 سے زائد مندوبین کی شرکت
استنبول میں جاری اسلامی تعاون تنظیم کے غیر معمولی وزارتی اجلاس میں ریکارڈ تعداد میں مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ اور نمائندگان شریک ہیں، جن کی تعداد ایک ہزار کے قریب بتائی جا رہی ہے۔
اجلاس میں ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اجلاس میں شریک ہیں، جب کہ ترکی کی میزبانی میں صدر اردوان اور وزیر خارجہ حکان فیدان اجلاس کی قیادت کر رہے ہیں۔
خطے میں سلامتی، یکجہتی اور سفارتی حکمت عملی پر زور
شرکاء نے خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات اور اسرائیلی اقدامات کے خلاف متفقہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ اجلاس کے دوران مسلم امہ کو درپیش چیلنجز، خاص طور پر فلسطین، ایران، لبنان اور شام میں جاری بحرانوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کے اعلامیے میں جارحیت کے خاتمے، فوری جنگ بندی، اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے عملی اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔







Discussion about this post