بھارت میں پھیلنے والے خطرناک نیپا وائرس نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے انعقاد کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اس سال بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے چند ہفتے قبل مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ اب تک دو نرسز اور ایک ڈاکٹر سمیت پانچ افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، اور ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ حکام نے کم از کم 100 افراد کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا ہے اور حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں، تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ نیپا وائرس چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور انتہائی مہلک ہے، جس کی شرح اموات 75 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ فی الحال دنیا میں اس کا کوئی مؤثر علاج دستیاب نہیں۔ یہ وائرس ورلڈکپ کے انعقاد سے محض چند ہفتے پہلے پھیلنا شروع ہوا ہے، اور اگر شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو ایونٹ کی تیاری، لاجسٹکس اور سیکیورٹی انتظامات پر سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ورلڈکپ پہلے ہی تنازعات کا شکار رہا ہے، جب بنگلادیش نے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے بھارت میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ آئی سی سی نے بنگلادیش کے موقف کو تسلیم نہیں کیا اور ان کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا۔ پی سی بی نے بھی اس معاملے پر واضح کیا کہ پاکستان ٹیم کی بھارت میں کھیلنے کی شرکت حکومت کی منظوری سے مشروط ہوگی، اور ذرائع کے مطابق بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا امکان بھی موجود ہے۔







Discussion about this post