سندھ کی سرکاری گرلز کالجز میں ایک اہم اور حفاظتی قدم اٹھا لیا گیا ہے. محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ نے صوبے بھر کے تمام سرکاری گرلز کالجوں میں فوٹوگرافی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، اور اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ طالبات اور خواتین اساتذہ کی تصاویر کے سوشل میڈیا پر غلط اور غیر اخلاقی استعمال کی متعدد سنگین شکایات کے بعد کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر کالجز نے واضح طور پر کہا کہ بعض پلیٹ فارمز پر یہ تصاویر معاشرتی، مذہبی اقدار اور قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا باعث بن رہی تھیں۔ اس لیے اب کالجوں کے اندر کسی بھی قسم کی فوٹوگرافی چاہے وہ طالبات کی ہو، اساتذہ کی ہو، یا کسی تقریب کی بالکل ممنوع ہے۔

ڈائریکٹر کالجز نے سخت انتباہ بھی جاری کیا کہ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے پرنسپلز، عملے یا کسی بھی فرد کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ اقدام طالبات کی پرائیویسی، وقار اور تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اٹھایا گیا ہے، تاکہ تعلیمی ادارے ایک محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کر سکیں جہاں لڑکیاں بے خوف ہو کر تعلیم حاصل کریں۔ یہ پابندی نہ صرف ایک نوٹیفکیشن ہے بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ سندھ کی حکومت طالبات کی عزت اور تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کرے گی۔ سوشل میڈیا کے دور میں جہاں ایک تصویر سیکنڈوں میں دنیا بھر میں پھیل سکتی ہے، یہ فیصلہ طالبات کو ڈیجیٹل خطرات سے بچانے کی جانب ایک مضبوط اور بروقت قدم ہے۔







Discussion about this post