سندھ حکومت نے سندھ موٹروہیکل رولز 1969 میں اہم ترامیم کرتے ہوئے بھاری اور کمرشل گاڑیوں کے لیے سخت حفاظتی اقدامات باضابطہ طور پر نافذ کر دیے ہیں۔ اب شہر میں چلنے والی بھاری گاڑیوں کی عمر کی حد 35 سال، شہروں کے درمیان چلنے والی گاڑیوں کی عمر کی حد 25 سال اور صوبوں کے درمیان چلنے والی گاڑیوں کی عمر کی حد 35 سال مقرر کی گئی ہے۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ نئی ترامیم کے تحت تمام بھاری کمرشل گاڑیوں میں جدید حفاظتی آلات لازمی ہوں گے، جن میں شامل ہیں:
-
جی پی ایس ٹریکنگ ڈیوائس
-
فرنٹ اور بیک ہائی ڈیفینیشن کیمرے
-
ڈرائیور مانیٹرنگ کیمرا
-
360 ڈگری کیمرا سسٹم
-
انڈر رن پروٹیکشن گارڈز
انہوں نے کہا کہ یہ نظام حادثات کے دوران شہریوں اور چھوٹی گاڑیوں کو محفوظ رکھنے میں مدد کرے گا۔
تمام بھاری گاڑیاں اب محکمہ ٹرانسپورٹ کے مقررہ مراکز سے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کریں گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے آن لائن سندھ حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع ہوں گے، اور تین بار خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ 3 لاکھ روپے تک اور گاڑی کی رجسٹریشن مستقل منسوخ ہو سکتی ہے۔
شرجیل میمن نے مزید بتایا کہ نئے قوانین کے تحت بین الصوبائی اور انٹر سٹی روٹس پر پرانی گاڑیوں کے چلنے پر پابندی ہوگی:
-
بین الصوبائی روٹس: 20 سال سے زائد پرانی گاڑیاں چلانے کی اجازت نہیں
-
انٹر سٹی روٹس: 25 سال سے زائد پرانی گاڑیاں ممنوع
-
شہر کے اندر: 35 سال سے زائد پرانی گاڑیاں چلانے کی اجازت نہیں
سینئر وزیر نے کہا کہ یہ ترامیم عوام کی جان و مال کے تحفظ، حادثات میں کمی، اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریفک نظام کی شفافیت کے لیے کی گئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹریفک پولیس، ایکسائز پولیس اور ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کو قوانین کے نفاذ میں کسی رعایت کی اجازت نہیں ہوگی۔
شرجیل میمن نے کہا:
"جدید ٹریکنگ اور کیمرا سسٹمز کے نفاذ سے نہ صرف ٹریفک قوانین پر عمل آسان ہوگا بلکہ حادثات کی وجوہات جاننے اور شفاف تحقیقات میں بھی مدد ملے گی۔ غیر محفوظ گاڑیاں سڑکوں پر نہیں چلیں گی اور شہریوں کو محفوظ اور جدید ٹرانسپورٹ سہولیات میسر ہوں گی۔”







Discussion about this post