سندھ حکومت نے کراچی کے علاقے لیاری میں عمارت گرنے کے المناک سانحے کے بعد فوری اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل کو معطل کر دیا ہے، جبکہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے امداد اور شہر میں انتہائی مخدوش قرار دی گئی 51 عمارتوں کو فوری طور پر منہدم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر بلدیات سعید غنی اور وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس بی سی اے کے ڈی جی کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے اور وزیر داخلہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق 2022 میں مذکورہ عمارت کو خطرناک قرار دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ سانحے کے بعد علاقے میں تعینات ایس بی سی اے کے تمام افسران کو معطل کیا گیا ہے اور اب 2022 سے اب تک تعینات رہنے والے تمام افسران کے کردار کی بھی جانچ کی جائے گی، جن کی کوتاہی ثابت ہوئی اُن کے خلاف ایف آئی آر میں نام شامل کیے جائیں گے۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے کمشنر کراچی کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے، جو 48 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرے گی۔

کمیٹی کی سفارشات پر شہر میں خطرناک عمارتوں کے خلاف بے رحم آپریشن شروع کیا جائے گا۔ حکومت نے کمشنر کراچی کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ 24 گھنٹوں میں انتہائی مخدوش قرار دی گئی 51 عمارتوں کی مکمل تفصیلات فراہم کریں، جنہیں فوری طور پر گرایا جائے گا۔ مزید دو ہفتے کے اندر شہر بھر کی 588 خطرناک عمارتوں کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے، تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کون سی عمارتیں فوری گرانے کے قابل ہیں اور کون سی مرمت کے بعد قابلِ رہائش ہو سکتی ہیں۔وزیر قانون ضیا لنجار نے اعتراف کیا کہ ایس بی سی اے کے قانون میں کئی سقم موجود ہیں جس کی وجہ سے ذمہ داروں کے تعین میں مشکلات ہوتی ہیں، تاہم حکومت قانون میں اصلاحات لا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں چیف سیکریٹری، وزیر قانون اور میئر کراچی شامل ہیں۔ کمیٹی دو ہفتے میں ترمیمی سفارشات پیش کرے گی۔







Discussion about this post