بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر امریکی دارالحکومت میں بھارتی سفارتخانے کے باہر خالصتان تحریک کے حامیوں نے زبردست احتجاج کیا، جس نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی۔

مظاہرین کا سفارتخانے کو گھیراؤ
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مظاہرین نے بھارتی سفارتخانے کا گھیراؤ کیا، خالصتان کے جھنڈے لہرائے اور بھارت مخالف نعرے بازی کی۔ مظاہرے میں "ڈاؤن وِد انڈیا” اور "مودی قاتل ہے” جیسے شعار نمایاں تھے۔ مظاہرین نے بھارتی پرچم کو پھاڑ کر اس کے ٹکڑے سفارتخانے کے احاطے میں پھینک دیے۔
پولیس کی موجودگی اور کشیدگی
واقعے کے بعد سفارتخانے کے عملے نے فوری طور پر پولیس کو طلب کیا، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اہلکار کئی گھنٹوں تک موقع پر موجود رہے۔
خالصتان ریفرنڈم کا اعلان
خالصتان کونسل کے صدر ڈاکٹر بخشیش سنگھ سندھو نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ
"خالصتان ریفرنڈم 17 اگست کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا، جس میں ہزاروں سکھ شرکت کریں گے۔”
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مظاہرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خالصتان تحریک کا عالمی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ یہ صورتحال بھارت کے لیے ایک نیا سفارتی چیلنج بھی بن سکتی ہے، کیونکہ واشنگٹن جیسے اہم دارالحکومت میں کھلے عام اس نوعیت کا احتجاج نئی دہلی کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان ہے۔







Discussion about this post