ٹی وی اینکر اور صحافی شاہ زیب خانزادہ کو ایک شاپنگ مال میں ہراساں کیے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس نے عوام اور میڈیا میں شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے۔ ویڈیو میں ایک شخص خانزادہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہتا ہے کہ انہیں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف پیش کیے گئے حقائق پر شرم آنی چاہیے۔ اس دوران شاہ زیب خانزادہ اور ان کی اہلیہ انتہائی تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرتے نظر آئے، اور انہوں نے کسی قسم کا فوری جواب نہیں دیا۔
This is harassement of @shazbkhanzdaGEO .. This is no crusade..
— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) November 16, 2025
سوشل میڈیا پر کئی شخصیات نے اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اسے پی ٹی آئی میں پیدا شدہ ہجوم ذہنیت کی ایک اور گندی یاد دہانی قرار دیا اور کہا کہ یہ سیاست نہیں بلکہ بربریت ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اختلاف رائے شائستگی اور احترام کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔
ایم کیو ایم کے سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ یہ سیاست میں جڑ پکڑنے والی گندگی کی ایک جھلک ہے۔
پاکستان کی معتبر،غیر جانبدار،ذہین،قابل،جراتمند،معتبر ترین صحافتی شخصیات میں سے نمایاں ترین @shazbkhanzdaGEO کے ساتھ بدگوئی اور بدتمیزی وہ بھی ان کے گھر کی خواتین کی موجودگی میں کرنے والے گذشتہ دہائی کی سیاست میں مزید پنپنے والی غلاظت کی جھلک ہے۔
جب قومی رہنما گالی بریگیڈ کو…— Faisal Subzwari (@faisalsubzwari) November 16, 2025
معروف صحافیوں اور عوامی شخصیات نے بھی واقعے کو ہراسانی اور قابل مذمت قرار دیا۔ نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے کہا کہ شاہ زیب خانزادہ ایک باعزت اور شاندار صحافی ہیں اور یہ واقعہ عدم برداشت کرنے والے گروہ کے رویے کو بے نقاب کرتا ہے۔ صحافی مطیع جان، زاہد گشکوری، فیضان لکھانی اور عاصمہ شیرازی نے بھی ہجوم کے رویے کی شدید مذمت کی۔
I strongly condemn the act carried out in the name of expressing disagreement with well known journalist Shahzeb Khanzada. You can certainly disagree, but do so within the bounds of decency and respect. Your actions have not affected Shahzeb Khanzada’s honor, but rather, those…
— Syed Nasir Hussain Shah (@SyedNasirHShah) November 16, 2025
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ’اکنامسٹ‘ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے فیصلوں میں اثر و رسوخ پر مضمون شائع کیا تھا، جسے پی ٹی آئی نے غیر ملکی تبصرے اور پروپیگنڈا قرار دیا۔ عدت کیس میں عدالت نے 3 فروری 2024 کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی، تاہم جولائی میں انہیں بری کر دیا گیا، بعد میں توشہ خانہ کیس کے سلسلے میں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔اس واقعے نے ایک بار پھر صحافیوں کی حفاظت، عوامی مقامات پر اظہار رائے اور سیاسی مخالفین کے ساتھ تحمل و احترام کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔







Discussion about this post