وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ابھرنے والا دہشت گردی کا نیا خطرہ خطے کے امن کے لیے سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے، اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ افغان حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر موثر انداز میں آمادہ کرے۔ترکمانستان کی مستقل غیر جانبداری کے 30 سال مکمل ہونے پر اشک آباد میں منعقدہ عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ قطر، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران نے جنگ بندی کی کوششوں میں جس خلوص سے تعاون کیا ہے، پاکستان اس کا دل سے معترف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعات کا پرامن حل ہمیشہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد رہا ہے اور اسی وژن نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور امن دوست ریاست کے طور پر منوایا ہے۔

وزیراعظم نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان کی حمایت سے غزہ امن منصوبے کی منظوری ممکن ہوئی جبکہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 پاکستان کی امن ترجیحات کی مضبوط تائید ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے رکن کی حیثیت سے پاکستان علاقائی امن کے مشن میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں پائیدار جنگ بندی اور انسانی امداد کی مسلسل فراہمی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے ترکمانستان کو مستقل غیر جانبداری کی 30 ویں سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اشک آباد کا حسین شہر، سفید سنگِ مرمر کی دلکش عمارتیں اور ترکمان عوام کی والہانہ مہمان نوازی انہیں خاص طور پر متاثر کرتی ہے۔ دورے کے دوران وزیراعظم نے عالمی رہنماؤں کے ہمراہ ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی علامت یادگار غیرجانبداری پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔ اس موقع پر روس کے صدر ولادی میر پیوٹن، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور ترکمانستان کے صدر بردی محمدوف سمیت کئی اہم عالمی رہنماؤں سے وزیراعظم کی خوشگوار گفتگو بھی ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف اشک آباد میں بین الاقوامی سال برائے امن و اعتماد، عالمی دن برائے غیرجانبداری اور ترکمانستان کی تین دہائیوں پر مشتمل مستقل غیر جانبداری کی سالگرہ کے سلسلے میں ہونے والے فورم میں شرکت کر رہے ہیں جہاں وہ مختلف عالمی قائدین سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔






Discussion about this post