چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کے اجلاس میں قومی اسمبلی سے منظور شدہ 27ویں آئینی ترمیم کی اضافی شقیں بھی حتمی منظوری کے لیے پیش کی گئیں اور ایوان بالا نے انہیں شق وار منظوری دے دی۔ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے بل کی حتمی منظوری کی تحریک پیش کی، اور سینیٹرز نے شق وار ووٹنگ کے ذریعے 27ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا۔ چیئرمین سینیٹ نے اعلان کیا کہ ووٹنگ مکمل ہو گئی ہے، جس میں 64 ووٹ ترامیم کے حق میں اور 4 ووٹ مخالفت میں آئے۔ جمعیت علمائے اسلام کے چار سینیٹرز نے ترمیم کی مخالفت کی، جبکہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور سینیٹر احمد خان نے حمایت میں ووٹ دیا۔اجلاس میں شق وار کارروائی کے دوران شق نمبر 2 کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا گیا، شق نمبر 4 اور شق نمبر 19 کو دو تہائی اکثریت سے بل سے حذف کر دیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز نے بائیکاٹ کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ اسی طرح شق نمبر 22، شق نمبر 51 اور شق نمبر 55 کو بھی دو تہائی اکثریت سے بل سے حذف کیا گیا۔ قومی اسمبلی اور اپوزیشن کی نشاندہی کے بعد کل آٹھ ترامیم کی گئیں، اور شق نمبر 53 میں ترمیم کو بھی دو تہائی اکثریت سے منظوری دی گئی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے اجلاس کے اختتام پر تمام سینیٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دعا ہے کہ یہ تمام کارروائی ملکی بہتری اور ترقی کے لیے استعمال ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ ووٹ دینے والے تمام ارکان نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا، اور کسی کو بھی بغیر تحریری استعفیٰ کے ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پر واضح کیا کہ انہیں معلوم تھا کہ یہ معاملہ اجاگر ہوگا، اور شاہ محمود قریشی نے بھی استعفیٰ دینے کی بات کی تھی، تاہم ابھی تک کوئی تحریری استعفیٰ موصول نہیں ہوا، اسی طرح سینیٹر سیف اللہ ابڑو کا استعفیٰ بھی سینیٹ سیکرٹریٹ کو نہیں ملا۔یہ کارروائی پاکستان کی آئینی تاریخ میں اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں ایوان بالا نے دو تہائی اکثریت کے ساتھ شفاف اور ضابطے کے مطابق آئینی ترامیم کی منظوری دی۔







Discussion about this post