وفاقی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایک پرجوش اور امید افزا پریس کانفرنس میں ملک بھر کے لیے "نو چائلڈ لیفٹ بیہائنڈ” (کوئی بچہ پیچھے نہ رہے) مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ مہم پاکستان کی تاریخ میں تعلیم کے میدان میں ایک سنگِ میل ثابت ہو گی، جہاں ایک بھی بچہ تعلیم کی روشنی سے محروم نہ رہے۔ وزیر نے واضح الفاظ میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق ہے۔ یہ کوئی انتخاب نہیں، بلکہ حکومت کی مقدس ذمہ داری ہے۔ اس مہم کے تحت تعلیمی اداروں کی تعداد، ان کی عمارتوں کی حالت، سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔ اگر عمارتیں ناکافی ہوں تو مساجد، کمیونٹی سنٹرز اور گھروں میں بھی کلاسز کا انتظام کیا جائے گا تاکہ کوئی بچہ تعلیم سے دور نہ رہے۔

خاص طور پر اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں 100 فیصد بچوں کا اسکول داخلہ یقینی بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ ایک ماڈل بنے گا جو پورے ملک کے لیے رہنمائی کرے گا۔ "فیڈرل ایکشن پلان 2025-2030” تیار کر لیا گیا ہے، جس کے تحت گھر گھر جا کر آؤٹ آف اسکول بچوں کی نشاندہی اور میپنگ کی جائے گی۔ سیکنڈ شفٹ متعارف کروائی جائے گی، متبادل تعلیمی راستے (جیسے نان فارمل ایجوکیشن) اور ایکسلریٹڈ لرننگ پروگرامز شروع کیے جائیں گے تاکہ بچے جلدی سے بنیادی تعلیم مکمل کر سکیں۔ ڈیجیٹل دور کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل ڈیش بورڈز کے ذریعے داخلوں، حاضری اور کارکردگی کی شفاف نگرانی کی جائے گی۔ غربت، جغرافیائی دوری، سماجی رکاوٹوں اور دیہی علاقوں میں تعلیم کے رجحان کی کمی جیسے چیلنجز کو دور کرنے کے لیے گلی محلوں تک پہنچنا ہو گا۔ والدین، اساتذہ، میڈیا اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس قومی مشن میں شامل ہونا ہو گا.تعلیم ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وزیر نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی دعوت دی کہ وہ آؤٹ آف اسکول بچوں کے داخلے کے لیے فرنٹ فٹ پر آ کر فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہیں وزارت ملی تو اعداد و شمار انتہائی تشویشناک تھے۔ تقریباً ڈھائی سے تین کروڑ بچے اسکول سے باہر تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو تعلیمی ایمرجنسی سے آگاہ کیا گیا، اور اب یہ مہم عملی، وقت کی پابند اور وسائل سے بھرپور ہو گی۔








Discussion about this post