سپریم کورٹ نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی جیل میں حالت زار اور دستیاب سہولیات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور شفاف قدم اٹھاتے ہوئے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ آج چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنایا، جب بانی پی ٹی آئی سے وکلا کی ملاقات کے معاملے پر سماعت جاری تھی۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ سلمان صفدر پر مکمل اعتماد ہے اور انہیں فوری طور پر اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے گی۔ چیف جسٹس نے اپنے پرجوش ریمارکس میں کہا کہ فرینڈ آف دی کورٹ کو جیل کے باہر انتظار نہیں کرانا چاہیے، بلکہ احترام کے ساتھ انہیں براہ راست رسائی دی جائے۔ اگر کوئی مسئلہ پیش آئے تو میرا ذاتی اسٹاف آفسر موجود ہے۔ یہ الفاظ نہ صرف عدالتی وقار کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ انسانی حقوق اور شفافیت کی طرف عدالت کی پختہ عزم کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ 24 اگست 2023 کے حکمنامے کے تحت تحریری رپورٹ چیمبر میں جمع کرا دی گئی تھی، جب بانی پی ٹی آئی اٹک جیل میں تھے، اور اس کے ساتھ میڈیکل رپورٹس بھی شامل تھیں۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ اس کے بعد ایسا کوئی آرڈر ریکارڈ پر نہیں جس پر عدالت مطمئن ہوئی ہو۔ اس لیے اب نئی، تازہ اور براہ راست رپورٹ کی ضرورت ہے۔ ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے عدالت سے استفسار کیا کہ کیا رپورٹ صرف لیونگ کنڈیشنز تک محدود ہے؟ عدالت نے جواب دیا کہ لیونگ کنڈیشنز کی رپورٹ چیمبر میں جمع کرائیں، جبکہ آنکھوں کے معائنے اور مجموعی صحت کے خدشات بھی زیر بحث آئے۔
عدالت نے فوری حکم نامہ جاری کر دیا:
- سلمان صفدر فوری طور پر اڈیالہ جیل جائیں۔
- بانی پی ٹی آئی کی جیل بریک تک مکمل رسائی دی جائے۔
- دستیاب سہولیات اور لیونگ کنڈیشنز کی تفصیلی تحریری رپورٹ کل تک جمع کرائی جائے۔
- کیس کی سماعت پرسوں تک ملتوی۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے دوبارہ ملاقات کی اجازت مانگی، مگر عدالت نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ فی الحال صرف فرینڈ آف دی کورٹ ہی اس مشن پر جائیں گے







Discussion about this post