چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے ایک اہم اجلاس میں ملک کی چاروں صوبائی ہائی کورٹس اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس صاحبان کی تقرری کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر جسٹس سرفراز ڈوگر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس جنید غفار کو چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ، جسٹس عتیق شاہ کو چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ، اور جسٹس روزی خان کو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کارروائی پر اعتراض اٹھایا کہ 26 ویں آئینی ترمیم سے متعلق فیصلہ پہلے ہونا چاہیے۔ اس موقف کی حمایت سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر نے بھی کی، جبکہ تحریکِ انصاف کے دو اراکینِ کمیشن اور خیبرپختونخوا کے وزیر قانون نے بھی جسٹس منصور علی شاہ کے مؤقف سے اتفاق کیا۔ اس دوران بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ جسٹس (ر) نذیر احمد لانگو کی جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں مسلسل شرکت آئین کے آرٹیکل 175A(5) کی ممکنہ خلاف ورزی ہے، کیونکہ وہ بطور ریٹائرڈ جج مسلسل اجلاس میں موجود رہے ہیں۔
اس سب کے باوجود، سنیارٹی کی بنیاد پر کی گئی تقرریوں کی منظوری دے دی گئی، اور اس حوالے سے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو عدالتی اور آئینی عمل کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یہ تقرریاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب عدالتی حلقوں میں تقرریوں کے طریقہ کار، سنیارٹی، اور آئینی شفافیت پر بحث جاری ہے۔







Discussion about this post