عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کو خیبرپختونخوا میں اہم سیاسی جھٹکا لگا ہے، جب پارٹی سے دیرینہ وابستگی رکھنے والے بلور خاندان کی اہم رکن ثمر ہارون بلور نے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی۔ شہید ہارون بلور کی بیوہ اور بشیر بلور کی بہو ثمر ہارون بلور نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد باضابطہ طور پر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، ثمر بلور کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشست پر رکن اسمبلی بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم سے ملاقات میں سعیدہ جمشید اور جمشید مہمند بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران ثمر بلور نے وزیراعظم کی قیادت میں پیش کیے گئے عوام دوست بجٹ، معاشی استحکام اور ملکی ترقی کے اقدامات کو سراہا۔ ثمر بلور نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ خیبرپختونخوا کو بھی وفاق اور پنجاب کی طرز پر ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ مل کر صوبے کے عوام کی خدمت کا عزم رکھتی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ثمر بلور کو پارٹی میں شمولیت پر خوش آمدید کہا اور ان کے جذبۂ خدمت کو سراہتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ملاقات میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ، انجینئر امیر مقام، سردار یوسف، رانا مبشر اور مرتضیٰ جاوید عباسی بھی موجود تھے۔

بلور خاندان کی قربانیاں: ایک تاریخی پس منظر
بلور خاندان خیبرپختونخوا کی سیاست کا ایک باوقار نام ہے، جو جمہوریت اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ 10 جولائی 2018 کو پشاور کے علاقے یکہ توت میں اے این پی کی انتخابی مہم کے دوران ایک خود کش دھماکے میں ہارون بلور سمیت 20 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی تھی۔اس سانحے سے چھ برس قبل، دسمبر 2012 میں ہارون بلور کے والد اور اے این پی کے سینئر رہنما بشیر بلور بھی ایک خودکش حملے میں شہید ہو چکے تھے۔ بلور خاندان کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان چند خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے قائدانہ سطح پر جانی قربانیاں دی ہیں۔







Discussion about this post