اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سفارتکار صائمہ سلیم نے بھارتی پراپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت داخلی اور بین الاقوامی سطح پر ریاستی دہشت گردی کی پالیسی پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی منافقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی، مالی معاونت اور خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے تباہی پھیلانے کے باوجود بھارت دنیا کے سامنے اپنے جرائم نہیں چھپا سکتا۔ یہ جواب بھارتی سفارتکار پیتل گہلوت کے اس الزام پر دیا گیا جس میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان مبینہ طور پر ’ریزسٹنس فرنٹ‘ جیسے گروہوں کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ صائمہ سلیم نے بھارت کے ان دعوؤں کو رد کرتے ہوئے کہا:
’’ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسی پراکسیز کے ذریعے بھارت نے ہزاروں پاکستانیوں کو شہید کیا، عبادتگاہوں، درسگاہوں اور روزگار کے مراکز کو قتل گاہوں میں بدل ڈالا۔‘‘
انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم کو ایسے ملک سے لیکچر لینے کی ضرورت نہیں جو خود قابض ہو اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا سب سے بڑا پشت پناہ ہو۔پاکستانی سفارتکار نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ پہلگام حملے کی آزاد، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں تو اسے تحقیقات پر آمادہ ہونا چاہیے۔ صائمہ سلیم نے بھارت کے اندرونی حالات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے دور حکومت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو مذہب کی بنیاد پر، سکھوں کو شناخت کی بنیاد پر اور دلت کو ذات کی بنیاد پر ظلم و امتیاز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف اپنے شہریوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھتا ہے بلکہ خطے کے پڑوسی ممالک کے ساتھ غنڈہ گردی، ماورائے عدالت قتل اور پراکسیز کو فنڈز فراہم کر کے پورے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ صائمہ سلیم نے اپنے خطاب کا اختتام ان الفاظ پر کیا:
’’یہ ہے نیو دہلی کا اصل چہرہ، اندرون ملک اسلاموفوبیا، بیرون ملک جارحیت اور اس سب کے پیچھے وہ انتہا پسند ہندوتوا نظریہ ہے جس پر بھارت کی سیاست کھڑی ہے۔‘‘







Discussion about this post