سندھ پولیس نے انٹرپول سے موصولہ خط کے تناظر میں برطانیہ میں چوری ہوئی اور بعد ازاں کراچی میں ٹریک ہونے والی رینج روور اسپورٹس گاڑی کے ٹریکر لاگ کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔انسپکٹر جنرل سندھ پولیس غلام نبی میمن انٹرپول کی جانب سے دو روز قبل اینٹی وہیکلز لفٹنگ سیل (اے وی ایل سی) کے دفتر کو ایک سرکاری خط موصول ہوا، جس میں برطانوی حکام سے گاڑی میں نصب ٹریکر کے مکمل ریکارڈ اور ٹریکر کے ذریعے گاڑی کے مقام کا تعین کرنے والے سورس کی نشاندہی کرنے کا کہا گیا ہے۔ انٹرپول کے خط میں بتایا گیا ہے کہ گاڑی کا آخری معلوم مقام 11 فروری 2025 کو کراچی کے صدر کے علاقے میں درج ہوا تھا۔ خط کے مطابق یہ رینج روور اسپورٹس گاڑی 11 نومبر 2022 کو ہاروگیٹ، برطانیہ سے چوری ہوئی تھی اور ابتدا میں اسے لیڈز میں ٹریک کیا گیا، مگر بعد ازاں اس کا سراغ گم ہو گیا تھا۔لفظ بہ لفظ دستاویزات کے مطابق، لینڈ روور کے ٹیلی میٹکس ماڈیول نے ریکارڈ کیا کہ گاڑی 11 فروری 2025، صبح 6:34 منٹ پر کورنگی سروس روڈ، اعظم بستی، صدر ٹاؤن میں موجود تھی۔

انسپکٹر جنرل میمن نے کہا کہ سندھ پولیس نے برطانوی پولیس کو ای میل کے ذریعے درخواست کی ہے کہ وہ متعلقہ لاگ شیٹس، ٹریکر کے تکنیکی ماخذ اور اصل مقام معلوم کرنے کے طریقہ کار فراہم کریں تاکہ پاکستانی ادارے آئندہ کاروائی کے لیے مکمل معلومات کے حامل ہوں۔ واضح رہے کہ انٹرپول نے اسی سلسلے میں اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)، کراچی پولیس اور ایس ایس پی اے وی ایل سی کو بھی نوٹس جاری کیا تھا۔ خط میں برطانوی حکام نے پوچھا ہے کہ کیا پاکستانی ادارے اس گاڑی کے حوالے سے کوئی سرکولر جاری کریں گے یا مزید معلومات کے تبادلے کے لیے تعاون کریں گے۔اس واقعے کے پیچھے تفتیشی پہلوؤں میں بین الاقوامی شراکت داری، ٹیلی میٹکس ڈیٹا کی شفافیت اور پاک-برطانیہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کلیدی حیثیت رکھتے ہیں یہی وہ نکات ہیں جن پر آئندہ کارروائیاں مبنی ہوں گی۔







Discussion about this post