بھارت کی معروف اور بے باک خاتون صحافی رانا ایوب ایک بار پھر سنگین خطرات کی زد میں ہیں۔ انہیں اور ان کے والد کو نامعلوم افراد کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیوں بھری ویڈیو اور فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق رانا ایوب نے بتایا کہ انہیں بین الاقوامی نمبرز سے متعدد کالز موصول ہوئیں جن میں نہ صرف ان کے گھر کا درست پتہ بتایا گیا بلکہ والد کے قتل کی کھلی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ دھمکیاں دینے والے شخص نے رانا ایوب پر دباؤ ڈالا کہ وہ 1984ء کے سکھ فسادات پر ایک مخصوص کالم لکھیں، بصورتِ دیگر سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔

اس خوفناک واقعے کے بعد رانا ایوب نے ممبئی کے کوپر کھیرانے پولیس اسٹیشن میں باضابطہ شکایت درج کرادی ہے۔ادھر عالمی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے بھارتی حکومت سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ رانا ایوب اور ان کے اہل خانہ کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، کیونکہ صحافیوں کے خلاف تشدد اور خوف کی فضا کسی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کی جا سکتی۔واضح رہے کہ رانا ایوب اس سے قبل بھی آن لائن ہراسانی، تفتیش، اور قتل و ریپ کی دھمکیوں کا سامنا کر چکی ہیں۔ تاہم ان کے حوصلے اب تک کمزور نہیں پڑے ۔ وہ بدستور سچ بولنے کی اپنی جنگ لڑ رہی ہیں۔







Discussion about this post