لاہورکی مقامی عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف توہین مذہب کے الزامات پر قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دے دیا۔ ایڈیشنل سیشن جج شفقت شہباز راجہ نے درخواست گزار شہزادہ عدنان کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ رجب بٹ نے مذہبی جذبات کو مجروح کیا اور توہین مذہب کا مرتکب ہوا، تاہم این سی سی آئی اے نے ان کی درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ عدالت نے تمام دلائل اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے این سی سی آئی اے کو ہدایت دی کہ رجب بٹ کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔

پس منظر
درخواست گزار نے جولائی میں عدالت سے رجوع کیا تھا جبکہ اس سے قبل مارچ میں بھی رجب بٹ کے خلاف سائبر کرائم قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے پرفیوم برانڈ کی لانچنگ کے موقع پر ’مذہبی جذبات کو مجروح‘ کیا اور مبینہ طور پر پاکستان کے توہینِ مذہب کے قانون کا مذاق اڑایا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد رجب بٹ نے اپنا پرفیوم برانڈ بند کرنے کا اعلان کیا اور کچھ عرصے کے لیے بیرون ملک روانہ ہوگئے تھے۔
مزید الزامات
این سی سی آئی اے نے رجب بٹ کو سوشل میڈیا پر جوئے کی ایپلی کیشنز کی تشہیر کے معاملے میں بھی طلب کر رکھا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ معروف یوٹیوبر "ڈکی بھائی” کی طرح مختلف جوئے کی ایپس کو پروموٹ کرتے رہے ہیں۔







Discussion about this post