بالی ووڈ کی ہنسی کی دنیا کا ایک چمکتا ستارہ راجپال یادیو اب ایک تلخ حقیقت کے سامنے کھڑا ہے، جہاں مزاح کی جگہ قانونی زنجیروں نے لے لی ہے, تہاڑ جیل کی دیواریں اب ان کی نئی منزل بن گئی ہیں۔یہ کہانی 2010 کی ہے، جب راجپال یادیو نے دہلی کی کمپنی مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے اپنی ہدایت کاری والی فلم "اتا پتا لاپتا” کے لیے تقریباً پانچ کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔ فلم باکس آفس پر ناکام رہی، قرض کی ادائیگی رک گئی، اور چیک باؤنس ہونے کے بعد معاملہ عدالتوں کی سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا۔

اپریل 2018 میں مجسٹریٹ عدالت نے راجپال یادیو اور ان کی اہلیہ رادھا کو نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی دفعہ 138 کے تحت چھ ماہ کی سادہ قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اپیلوں، عبوری ریلیف اور متعدد قانونی چکر کے باعث یہ کیس ایک دہائی سے زائد عرصے تک زیر سماعت رہا، اور واجب الادا رقم سود اور جرمانوں سمیت تقریباً نو کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ حالیہ پیش رفت نے سب کو حیران کر دیا. دہلی ہائی کورٹ نے فروری 2026 کی ابتداء میں اداکار کو حتمی طور پر سرینڈر کرنے کا حکم دیا، اور لچک کی کوئی گنجائش نہ رکھتے ہوئے کہا کہ مشہور ہونے کا مطلب قانون سے بالاتر ہونا نہیں۔ راجپال یادیو نے عدالت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جمعرات کو شام چار بجے تہاڑ جیل کے حکام کے سامنے خود کو حوالے کر دیا، اور اب وہ چھ ماہ کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اداکار نے آخری لمحات میں بھی ادائیگی کے نئے پلان اور جزوی رقم پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا.

راجپال یادیو بالی ووڈ میں اپنی یادگار کامیڈی کے لیے مشہور ہیں، جنہوں نے لاکھوں دلوں کو ہنسایا، لیکن آج ان کی زندگی ایک سنجیدہ سبق بن گئی ہے. مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں تاخیر کبھی کبھی ہنسی کی دنیا کو بھی خاموش کر دیتی ہے۔ اب تک اداکار کی جانب سے اس فیصلے پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا،لیکن یہ واقعہ بالی ووڈ کے اندرونی چیلنجز اور قانونی نظام کی سختی کو ایک بار پھر اجاگر کر رہا ہے۔ راجپال یادیو کی یہ جدوجہد نہ صرف ان کی ذاتی کہانی ہے بلکہ ہر اس شخص کے لیے ایک آئینہ ہے جو قرضوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اور یاد رکھیں، قانون کی عدالت میں کوئی مزاح نہیں چلتا۔








Discussion about this post