محکمۂ موسمیات پاکستان نے ایک بار پھر ملک کے عوام کو یقین دلایا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کسی بھی سنگین ماحولیاتی یا تابکاری خطرے سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ایران میں جاری شدید بمباری کے باوجود اب تک کوئی منفی اثرات سرحد پار نہیں آئے، اور یہاں کی ہوا، پانی اور ماحول پر کوئی براہ راست اثر نہیں پڑا۔ ترجمان انجم نذیر نے واضح کیا کہ محکمۂ موسمیات ایران کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ریئل ٹائم ڈیٹا کا تبادلہ جاری ہے، تاکہ فضائی آلودگی، زہریلی گیسوں یا کسی ممکنہ تابکاری کے ذرات پر گہری نظر رکھی جا سکے۔ ایرانی فراہم کردہ اعداد و شمار اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بالائی فضا میں خطرناک آلودہ ذرات یا زہریلی گیسوں کا کوئی ثبوت نہیں ملا، جبکہ تابکاری کے آثار بھی بالکل صفر ہیں۔ ایران میں رپورٹ ہونے والی "سیاہ تیزابی بارش” (بلیک ایسڈ رین) واقعی ایک سنگین ماحولیاتی اشارہ ہے. یہ تیل کے ذخائر اور ریفائنریوں پر حملوں سے نکلنے والے زہریلے مادوں کا نتیجہ ہے جو فضا میں پھیل کر بارش کے ساتھ زمین پر گر رہے ہیں۔ یہ صورتحال تہران اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں صحت، پانی اور زراعت کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ مگر پاکستان کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان کا سرحدی علاقہ ایران کے جنوبی حصوں سے ملتا ہے جہاں بمباری کی شدت کم ہے اور صورتحال نسبتاً معمول کے قریب ہے۔

انجم نذیر نے مزید بتایا کہ اگر خدانخواستہ کوئی تابکاری کا واقعہ پیش آ جائے تو بھی ہواؤں کا رخ اور جغرافیائی پوزیشن ایسا ہے کہ ممکنہ اثرات زیادہ تر ترکمانستان یا افغانستان کی جانب جا سکتے ہیں، پاکستان کی طرف نہیں۔ شمال مغربی ایران میں ہونے والی زیادہ تر کارروائیاں پاکستان سے دور ہیں، اور موجودہ ہواؤں کا بہاؤ بھی ایسا نہیں جو آلودگی کو براہ راست یہاں لائے۔ یہ اعلان نہ صرف ایک سائنسی یقین دہانی ہے بلکہ ایک تسلی بخش پیغام بھی, جنگ کی آگ بھڑک رہی ہے تو ماحولیاتی دھواں بھی اٹھ رہا ہے، مگر پاکستان کی سرحدیں ابھی تک اس دھویں سے محفوظ ہیں۔ محکمۂ موسمیات کی ٹیم دن رات سیٹلائٹس، ڈیٹا اور بین الاقوامی رابطوں کے ذریعے نظر رکھے ہوئے ہے، تاکہ کوئی بھی ممکنہ خطرہ آنے سے پہلے ہی پکڑ لیا جائے۔







Discussion about this post