کراچی میں جمعرات کے روز موسم نے اچانک کروٹ لی۔ دوپہر تک جزوی دھوپ کے بعد شام کو شہر کے مختلف علاقوں میں ہلکی اور درمیانی بارش ہوئی، جو محکمۂ موسمیات کی ابتدائی پیشگوئی کے برعکس تھی۔ پاکستان میٹ آفس کے فوکل پرسن انجم نیاز ضیغم نے وضاحت کی کہ موجودہ مون سون سسٹم اپنی شدت کھو چکا ہے اور کراچی پر اس کا اثر تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ "بارش برسانے والے بادل سندھ کے دیگر حصوں میں برکھا برسانے کے بعد کراچی کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث شہر میں رات گئے مزید بارش کے امکانات ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ بدھ کو اورنگی ٹاؤن میں سب سے زیادہ 113 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ ان کے مطابق یہ سسٹم 19 اگست کو اپنی زیادہ توانائی خارج کر چکا تھا جبکہ بھارتی گجرات کے اوپر موجود سرکولیشن بھی توقع سے پہلے ختم ہوگئی۔ "ہم سمجھ رہے تھے کہ ہوا کا کم دباؤ اور گجرات کی سرکولیشن مل جائیں گے، مگر خوش قسمتی سے ایسا نہیں ہوا،” انہوں نے کہا۔
اگلا مون سون اسپیل 27 اگست کو متوقع
محکمۂ موسمیات نے بتایا کہ کراچی میں اگلا بارش کا سلسلہ 27 اگست کو متوقع ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق آئندہ دو روز (جمعہ اور ہفتہ) شہر کا موسم زیادہ تر ابر آلود رہے گا جبکہ کہیں کہیں ہلکی بارش یا بوندا باندی ہو سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 سے 34 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے 20 اگست کے اعداد و شمار کے مطابق:
-
اورنگی ٹاؤن: 113 ملی میٹر
-
پی اے ایف فیصل بیس: 43 ملی میٹر
-
کورنگی: 36 ملی میٹر
-
کیماڑی: 31 ملی میٹر
-
مسرور بیس و یونیورسٹی روڈ: 24 ملی میٹر
-
ڈی ایچ اے: 21 ملی میٹر
-
ناظم آباد: 19 ملی میٹر
-
سعدی ٹاؤن: 16 ملی میٹر
-
نارتھ کراچی: 9 ملی میٹر
بارش سے حادثات اور اموات
بارش کے باعث شہر میں حادثات بھی پیش آئے۔ جمعرات کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں کرنٹ لگنے سے 30 سالہ ساحر قمر جاں بحق ہوگئے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق انہیں جناح اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔ گزشتہ تین روز کے دوران بارشوں سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 15 ہوگئی ہے، جن میں زیادہ تر کرنٹ لگنے اور عمارتیں گرنے کے واقعات شامل ہیں۔
شہری انتظامیہ کی کارروائیاں
بارش کے بعد مختلف علاقوں میں پانی جمع ہوگیا تاہم شہری انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ زیادہ تر مارکیٹوں اور اہم شاہراہوں سے پانی نکال دیا گیا ہے۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی کے مطابق ناظم آباد اور طارق روڈ انڈرپاسز کو صاف کر کے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، جبکہ دیگر مقامات پر بھی پمپنگ کا عمل جاری ہے۔
وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے بھی شہر کا دورہ کیا اور کہا کہ "کراچی کی مجموعی صورتحال قابو میں ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی ادارے، سول انتظامیہ اور صوبائی نمائندے سب میدان میں ہیں اور نکاسیٔ آب کے عمل کی نگرانی کررہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ بلا ضرورت سفر سے گریز کریں تاکہ کسی ناگہانی حادثے سے بچا جاسکے۔







Discussion about this post