کوئٹہ کے زرغون روڈ پر ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج نے خودکش حملہ کیا۔ واقعے میں خودکش حملہ آور سمیت 6 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آور ایف سی کی وردی میں ملبوس تھا، اور حملے کے بعد فائرنگ بھی کی گئی۔ واقعے میں 2 ایف سی جوان زخمی ہوئے، تاہم تمام دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ پولیس کے مطابق دھماکا زرغون روڈ کے حساس علاقے میں ہوا، جس کے بعد شدید فائرنگ بھی دیکھنے میں آئی۔ دھماکے کے بعد سامنے آنے والی فوٹیجز میں طویل فاصلے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے نظر آئے، جو واقعے کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔ ترجمان محکمہ صحت کے مطابق کوئٹہ میں زرغون روڈ پر ہونے والے دھماکے کے بعد سول اسپتال، بی ایم سی اسپتال اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔تمام کنسلٹنٹس، ڈاکٹرز، فارماسسٹ، اسٹاف نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف فوری طور پر اسپتالوں میں طلب کر لیے گئے ہیں تاکہ زخمیوں کو فوری طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے میں 2 ایف سی جوان زخمی ہوئے جبکہ تمام دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ حملہ آور ایف سی کی وردی میں ملبوس تھا۔
گورنر بلوچستان کا ردعمل:
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے پشین اسٹاپ کے قریب دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی اور نہتے شہریوں کی شہادت پر گہرے رنج و دکھ کا اظہار کیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کی مذمت:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دھماکے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد بزدلانہ حملوں سے قوم کا حوصلہ پست نہیں کر سکتے، اور عوام و سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے بلوچستان کو پرامن اور محفوظ بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔







Discussion about this post