وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک بار پھر بلوچستان کی سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کا دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاتون خودکش بمبار کی بروقت گرفتاری نے نہ صرف کئی معصوم جانیں بچائیں بلکہ دہشتگردوں کے ایک گھناؤنے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ کوئٹہ میں صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو اور دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے جذباتی انداز میں کہا کہ دہشتگرد تنظیمیں اب معصوم لڑکیوں کو بھی اپنے شیطانی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور "لائبہ” جیسا دل دہلا دینے والا واقعہ سب کے سامنے ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ایک ماں، بہن یا بیٹی کو بموں سے لاد کر موت کی طرف دھکیلا جاتا ہے، مگر خوش قسمتی سے سیکیورٹی فورسز نے اسے روک دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بلوچ ایک غیرت مند، بہادر اور عزت کی قدر کرنے والی قوم ہے مگر کچھ تنظیمیں، جیسے بشیر زیب گروپ اور بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ خواتین کے احترام کو پامال کر رہی ہیں اور بلوچیت کے مقدس نام کو ایک لاحاصل جنگ کی آڑ میں بدنام کر رہی ہیں۔ یہ نہ صرف بلوچ قوم کے خلاف ہے بلکہ انسانی اقدار کے خلاف بھی ایک سنگین جرم ہے۔
The captured female suicide bomber Laiba on how the terrorists contacted her: https://t.co/WGkta1Zrny pic.twitter.com/xzwP8LHXXo
— The STRATCOM Bureau (@OSPSF) March 18, 2026
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کافی عرصے بعد سیکیورٹی اداروں کو ہیومن انٹیلی جنس کا بہترین سورس ملنا شروع ہو گیا ہے۔ عوام اب خود حساس معلومات شیئر کر رہے ہیں، کیونکہ وہ دہشتگردی کو قبول نہیں کرتے۔ یہ تبدیلی بلوچستان کی حقیقی طاقت ہے: جب لوگ خود حکومت کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو دہشتگردوں کی جڑیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین سے متعلق تمام معاملات صرف اور صرف لیڈیز پولیس کے ذریعے نمٹائے جائیں گ، خواتین کے احترام اور وقار کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔ افغان مہاجرین کے معاملے پر بھی انہوں نے کہا کہ ان کی واپسی ریاست کا فیصلہ ہے اور یہ باعزت اور منظم طریقے سے ہو گی۔ مزید سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کے لیے ایف سی کی تین اضافی بٹالین طلب کی جا چکی ہیں، جبکہ افغانستان کو دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ہزار سے زائد دہشتگردوں کو وہاں تربیت دی جا رہی ہے۔ پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث عناصر وہاں موجود ہیں، مگر پاکستان آئین کے مطابق نظام چلائے گا اور مذاکرات صرف ان سے ممکن ہیں جو بات چیت کے لیے تیار ہوں۔







Discussion about this post