پنجاب میں ایک خوفناک حقیقت سامنے آئی ہے جو ہر شہری کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گی، محض دو برسوں میں چار لاکھ 36 ہزار سے زائد افراد آوارہ کتوں کے کاٹنے کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ ایک ایسی تعداد ہے جو روزمرہ کی زندگی کو خطرے کی لپیٹ میں لے آئی ہے۔ محکمہ صحت پنجاب کے تازہ ترین اعداد و شمار نے ایک تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ 2025 میں دو لاکھ تین ہزار سے زائد لوگ اس وحشت کا شکار بنے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد دو لاکھ بتیس ہزار سے تجاوز کر گئی یعنی ہر روز سینکڑوں افراد ہسپتالوں کی طرف دوڑتے نظر آتے ہیں۔ اس بحران کی شدت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ڈیرہ غازی خان سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں سرفہرست ہے جہاں 28 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، رحیم یار خان نے 26 ہزار 488، فیصل آباد نے 25 ہزار 863 جبکہ لاہور میں بھی 15 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے۔

یہ اعداد شہروں کی گلیوں میں چھپے خطرے کی ایک زندہ تصویر ہیں۔ محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران نے ایک اجلاس میں کھل کر اعتراف کیا کہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اور خطرناک اضافہ ہو رہا ہے، جو نہ صرف ریبیز جیسی مہلک بیماری کا سبب بن رہا ہے بلکہ عوام کی زندگیوں کو براہ راست خطرے میں ڈال رہا ہے۔ یہ بحران اب ایک قومی ایمرجنسی کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں آوارہ جانوروں کی بڑھتی تعداد، عدم توجہی اور ناکافی اقدامات نے پنجاب کو ایک ایسے دور میں دھکیل دیا ہے جہاں ہر گلی، ہر محلہ ایک ممکنہ خطرے کا شکار ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فوری، ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ یہ خوفناک سلسلہ تھم سکے اور معصوم لوگ، خاص طور پر بچے، محفوظ رہ سکیں۔







Discussion about this post