آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے صوبے بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے تمام ضلعی اور سینیئر پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ مساجد، امام بارگاہوں، مزارات، مارکیٹوں اور حساس مقامات کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ مساجد، کاروباری مراکز اور شاہراہوں پر پٹرولنگ بڑھائی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا تھا کہ لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنا اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام ڈی پی اوز اور سینیئر افسران کو فیلڈ میں موجود رہنے اور سکیورٹی انتظامات کا خود جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ آئی جی پنجاب نے واضح کیا کہ دفعہ 144 کی پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کے روز کسی کو ہڑتال کی آڑ میں سڑکوں پر آنے یا امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ توڑ پھوڑ، تشدد یا فساد کی صورت میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے، جن کی سزا 10 سے 14 سال قید تک ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ زندگی کا پہیہ چلتا رہے گا، مارکیٹیں، کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب پولیس اے آئی بیسڈ (Artificial Intelligence Based) ٹیکنالوجی کی مدد سے شرپسند عناصر کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کرے گی۔
آئی جی پنجاب نے عزم ظاہر کیا کہ شرپسندوں اور بلوائیوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور قانون کی عملداری ہر حال میں یقینی بنائی جائے گی۔







Discussion about this post