خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے انتخاب سے محض چند روز قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے ایک بڑی سیاسی دھچکا دینے والی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے تمام ارکانِ اسمبلی کو آزاد قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے تمام ارکان اب آزاد حیثیت رکھتے ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں تمام اسمبلیوں کی پارٹی پوزیشنز میں بڑی تبدیلی واقع ہوگئی ہے، جب کہ نئی فہرستیں بھی باضابطہ طور پر جاری کردی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ 2 اکتوبر 2025 کو سپریم کورٹ کے جاری کردہ تفصیلی فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ "پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں پر دیا گیا ریلیف برقرار نہیں رہ سکتا، کیونکہ وہ اس کیس میں باقاعدہ فریق نہیں تھی۔” سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ عدالت کو آئین کی تشریح کرتے ہوئے اسے ازسرِنو لکھنے کا اختیار نہیں ہے، اور آرٹیکل 187 کا اطلاق ایسے فریق پر نہیں کیا جا سکتا جو عدالت کے سامنے موجود ہی نہ ہو۔

عدالت کے تفصیلی فیصلے کے مطابق، تمام ججز کا متفقہ موقف تھا کہ "سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں تھی، اور اس کی دونوں اپیلیں متفقہ طور پر خارج کی گئیں۔” مزید یہ کہ سنی اتحاد کونسل نے ان اپیلوں کے خارج ہونے کے خلاف کوئی نئی درخواست بھی دائر نہیں کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں 12 جولائی 2024 کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ "پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ آئینی دائرہ کار سے تجاوز تھا۔” یوں پشاور ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ برقرار رکھا گیا جس نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کا حق دینے سے انکار کیا تھا۔ 14 مارچ 2024 کو پشاور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے متفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست مسترد کی تھی۔ بعد ازاں 12 جولائی 2024 کو سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ کالعدم قرار دے کر پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں کا حقدار ٹھہرایا۔ تاہم 27 جون 2025 کو آئینی بینچ نے 5 کے مقابلے میں 7 ججوں کی اکثریت سے نظرِثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے یہ فیصلہ پلٹ دیا اور پی ٹی آئی کو دی گئی نشستیں واپس لے لیں۔الیکشن کمیشن کے اس تازہ اقدام نے خیبرپختونخوا کے سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے انتخاب سے قبل پی ٹی آئی کے ارکان کا آزاد قرار پانا نہ صرف اسمبلی کی عددی حیثیت کو متاثر کرے گا بلکہ نئی سیاسی صف بندیاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔







Discussion about this post