پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کے درمیان ایک وائرل نوٹیفکیشن نے تہلکہ مچایا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے غیرملکی افراد کو پاکستانی سوشل میڈیا گروپس سے نکالنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ وائرل پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ ملکی سیکیورٹی صورتحال اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے پیشِ نظر یہ اقدام ضروری ہے اور ہدایات پر عمل نہ کرنے والے گروپ ایڈمنز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جس نے صارفین میں خوف اور بےچینی کی لہر دوڑا دی۔ تاہم، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اس دعوے کی فوری اور واضح تردید کی ہے۔ اتھارٹی نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ یہ نوٹیفکیشن مکمل طور پر جھوٹ اور بے بنیاد ہے اور اس نے کبھی بھی سوشل میڈیا گروپ ایڈمنز کو کسی غیرملکی ممبر کو نکالنے کی ہدایت نہیں دی۔ پی ٹی اے نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات کو آگے نہ بڑھائیں اور سوشل میڈیا پر صرف اتھارٹی کے سرکاری ذرائع سے حاصل شدہ مستند اپڈیٹس پر بھروسہ کریں۔
جعلی نوٹیفکیشن کی وضاحت
اسلام آباد، (2 دسمبر 2025): سوشل میڈیا پر ایک جعلی نوٹیفکیشن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پی ٹی اے نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا گروپس کے منتظمین کو غیر ملکی ممبرز کو ہٹانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ اطلاع درست نہیں ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی اے نے ایسی کوئی… pic.twitter.com/yL0nxZsvhb
— PTA (@PTAofficialpk) December 2, 2025
اتھارٹی کا یہ قدم نہ صرف صارفین کو غلط فہمیوں اور افواہوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اہم ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی یقین دلاتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں شفافیت اور سچائی کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے گا۔ یہ واقعہ ایک واضح پیغام ہے کہ معلومات کی دنیا میں شعور اور احتیاط ہی صارفین کی سب سے بڑی حفاظت ہے، اور ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ افواہوں کی بجائے حقائق کی روشنی میں فیصلے کرے۔







Discussion about this post