پشاور ہائیکورٹ نے سانحہ سوات پر انکوائری افسر سے اب تک ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تفتیش مکمل طور پر غیر جانبدار اور شفاف ہونی چاہیے۔ پشاور ہائیکورٹ میں سانحہ سوات کیس کی سماعت کے دوران انکوائری کمیٹی کے سربراہ خیام حسن عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ کمیٹی میں ان کے ہمراہ دو دیگر ارکان شامل ہیں، اور انہیں انکوائری مکمل کرنے کے لیے سات روز دیے گئے ہیں، جن میں سے چار دن گزر چکے ہیں۔ چیف جسٹس سید محمد عتیق شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ "انکوائری آزاد اور غیر جانبدار ہونی چاہیے”۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آیا واقعے کے بعد فوری حفاظتی اقدامات کیے گئے یا نہیں۔ خیام حسن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انکوائری کا آغاز سانحے کے روز ہی کردیا گیا تھا اور تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔ عدالت نے انکوائری افسر کو ہدایت دی کہ اب تک کی تمام پیشرفت پر مبنی رپورٹ جلد از جلد عدالت میں جمع کروائی جائے۔

سانحہ سوات – پس منظر
یہ افسوسناک واقعہ 27 جون کو پیش آیا جب خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں موسلادھار بارش کے بعد دریائے سوات میں طغیانی آگئی۔ دریا کی شدت نے سات مختلف مقامات پر قیامت برپا کردی، جہاں خواتین اور بچوں سمیت 75 سے زائد افراد دریا کی بے رحم موجوں کی نذر ہوگئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک 10 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 55 سے زائد افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان نیاز احمد خان کے مطابق سوات میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال نے مقامی آبادی کو شدید متاثر کیا۔ عدالت کی مداخلت اس واقعے کی شفاف تحقیقات اور آئندہ ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کی طرف ایک مثبت قدم قرار دی جا رہی ہے۔







Discussion about this post