ملک بھر میں آج سے پولیو کے خلاف نئی قومی مہم کا آغاز ہو رہا ہے، جس کا مقصد لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو اس خوفناک بیماری سے بچانا ہے۔ اس مہم میں چار لاکھ سے زائد محنتی پولیو ورکرز گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے پلائیں گے، تاکہ ہر بچہ محفوظ اور صحت مند رہے۔ حکام نے بتایا کہ مہم کی کامیابی کے لیے سیکیورٹی اور نگرانی کے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں، تاکہ ہر بچہ اس بیماری سے محفوظ ہو سکے۔ پچھلے سالوں میں پاکستان نے پولیو کے خاتمے میں بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن والدین کا تعاون ابھی بھی اس مشن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ قومی انسداد پولیو مہم کی فوکل پرسن عائشہ رضا نے کہا کہ میڈیا کا مثبت تعاون اس مہم کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال کی پہلی مہم کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان پولیو کے مکمل خاتمے کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ حکام نے بتایا کہ پچھلے سال ملک میں 31 پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تعداد خیبر پختونخوا میں تھی، جبکہ بلوچستان میں 14 ماہ سے کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔کراچی کے کچھ علاقوں میں اب بھی چیلنجز موجود ہیں، لیکن ہر قدم پر محنت اور لگن کے ساتھ مہم جاری رکھی جائے گی تاکہ ملک میں پولیو کی جڑیں ہمیشہ کے لیے ختم ہوں۔








Discussion about this post