وزیراعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو واضح اور پُرعزم انداز میں یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت ہرگز اس حساس انسانی مسئلے سے غافل نہیں اور اسے پوری سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور ان کی مشکلات کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب قانونی، سفارتی اور اخلاقی ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔یہ یقین دہانی وزیراعظم نے اس اہم ملاقات کے دوران کرائی جس میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ان سے براہِ راست ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان، وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس مسئلے کو کس قدر سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق ماضی میں بھی حکومت پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس پر متحرک کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف خود امریکی صدر جو بائیڈن کو خط لکھ چکے ہیں، اور اب مزید مؤثر اقدامات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی وفاقی وزیر قانون و انصاف کریں گے۔ یہ کمیٹی نہ صرف ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گی بلکہ اس معاملے کو عملی پیش رفت کی جانب لے جانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے گی۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس کیس میں حکومتی غفلت پر سخت ردعمل دیا ہے۔ عدالت نے رپورٹ جمع نہ کرانے پر وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے اور تمام فریقین کو دو ہفتے میں تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان کی جانب سے جاری کردہ تحریری حکم نامے میں حکومت کی خاموشی کو "سنگین غفلت” قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو انصاف کے نظام پر مسلسل حملوں کا سامنا ہے، اور موجودہ رویہ انصاف کی روح کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ ان کے بقول، یہ معاملہ اب ایک قومی اور عدالتی امتحان کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کا تقاضا ہے کہ حکومت فوری، سنجیدہ اور نتیجہ خیز اقدامات کرے۔ یہ معاملہ اب نہ صرف ایک پاکستانی شہری کی آزادی کا ہے بلکہ پوری قوم کی خودداری، سفارتی قوت اور عدالتی نظام پر اعتماد کا بھی امتحان ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت صرف بیانات پر اکتفا نہ کرے، بلکہ دنیا کو عملی اقدامات کے ذریعے دکھائے کہ پاکستان اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں سنجیدہ اور باوقار ریاست ہے۔







Discussion about this post