اسلام آباد کی سیاسی فضا میں ایک اہم اور تاریخی لمحہ رقم ہوا جب وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں اور نمائندوں کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس ملک کی سلامتی، علاقائی کشیدگیوں اور پاکستان کی سفارتی حکمت عملی پر گہری نظر ڈالنے کا ایک نادر موقع تھا، جہاں تمام سیاسی قوتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئیں۔ اجلاس کے شرکاء کو پاکستان-افغانستان سرحدی صورتحال، ایران-اسرائیل تنازع، مشرق وسطیٰ اور خلیج میں بھڑکتی آگ، اور پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کاوشوں پر تفصیلی ان کیمرہ بریفنگ دی گئی۔ دفتر خارجہ کے حکام نے بریفنگ میں واضح کیا کہ آیت علی خامنہ ای کی شہادت اور ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں کے بعد پاکستان نے فوری طور پر تنازع کی مذمت کی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں و نمائندگان کا اجلاس شروع
وزیرِ اعظم پارلیمانی رہنماؤں کو پاکستان افغانستان صورتحال اور خطے بالخصوص مشرق وسطی و خلیج میں حالیہ کشیدگی کے حوالے سے اعتماد میں لیں گے.
اجلاس میں پارلیمانی رہنماؤں کو تفصیلی بریفنگ… pic.twitter.com/qjxD9u0ZnT
— PTV News (@PTVNewsOfficial) March 4, 2026
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے خلیجی اور عرب ممالک کے ساتھ اپنے دوطرفہ رابطوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جبکہ مغربی سرحد پر افغان طالبان رجیم کے خلاف جاری آپریشن "غضب للحق” کی کامیابیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔شرکاء نے موجودہ حساس حالات میں ملی اتحاد، اتفاق اور یگانگت کی انتہائی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی اور انہیں مزید تیز کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پختہ عزم کا اعادہ کیا گیا، اور وزیراعظم کے تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو سراہا گیا۔ اجلاس میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ، نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر جمیعت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان سمیت متعدد وفاقی وزراء، مشیران اور اراکین پارلیمنٹ شریک تھے۔ ان میں احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطاء تارڑ، عبدالعلیم خان، خالد حسین مگسی، خالد مقبول صدیقی، رانا ثناء خان، شیری رحمن، انوار الحق کاکڑ اور دیگر نمایاں شخصیات شامل تھیں۔

یہ اجلاس پاکستان کی خارجہ پالیسی کی مضبوطی اور داخلی اتحاد کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دی گئی۔ ذرائع کے مطابق، اپوزیشن میں کچھ تقسیم ضرور تھی جہاں مولانا فضل الرحمان نے دعوت قبول کی، مگر تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے بانی پی ٹی آئی سے عدم ملاقات کو جواز بنا کر شرکت سے انکار کر دیا لیکن شرکاء کی اکثریت نے اتفاق رائے سے ملک کی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر زور دیا۔یہ لمحہ پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے، جہاں بحران کے وقت سیاسی قیادت ایک ہو کر کھڑی ہوئی، اور دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان اپنے مفادات اور خطے کے امن کے لیے پرعزم اور متحد ہے۔







Discussion about this post