وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے سولر انرجی کے نئے ریگولیشنز جاری کرنے پر فوری اور سخت نوٹس لیتے ہوئے پاور ڈویژن کو واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطح کے خصوصی اجلاس میں انہوں نے کہا کہ موجودہ سولر صارفین کے کنٹریکٹس کا مکمل تحفظ یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں پاور ڈویژن کو فوری طور پر نیپرا میں نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ پرانے معاہدوں کی شرائط پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ وزیراعظم نے مزید زور دیا کہ ملک بھر میں تقریباً 4 لاکھ 66 ہزار سولر صارفین کا بوجھ 3 کروڑ 76 لاکھ سے زائد نیشنل گرڈ پر انحصار کرنے والے صارفین پر نہ ڈالا جائے۔

انہوں نے پاور ڈویژن کو حکم دیا کہ اس معاملے پر ایک جامع اور متوازن لائحہ عمل تیار کیا جائے جو قابل تجدید توانائی کے فروغ کو بھی یقینی بنائے اور گرڈ کے مالی استحکام کو بھی برقرار رکھے۔ یہ اجلاس نیپرا کے نئے پروسومر ریگولیشنز 2026 کے اجرا کے فوراً بعد بلایا گیا تھا، جس میں نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ نئے قواعد کے تحت اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرنے پر ادائیگیاں قومی اوسط انرجی پرچیز قیمت پر مبنی ہوں گی، جو پہلے کی نسبت کم ہیں، جبکہ کنٹریکٹ کی مدت بھی 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی ہے۔ موجودہ صارفین کے کنٹریکٹس ختم ہونے تک پرانے نظام کا اطلاق جاری رہے گا۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، سردار اویس خان لغاری، وزیر مملکت برائے توانائی بلال اظہر کیانی، مشیر نجکاری محمد علی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ یہ فیصلہ سولر انرجی کے تیزی سے پھیلاؤ کے تناظر میں اہم ہے، جہاں ایک طرف ماحولیاتی اور معاشی فوائد نمایاں ہیں تو دوسری جانب گرڈ کے مالیاتی بوجھ کو متوازن رکھنے کی ضرورت بھی مسلمہ ہے۔ وزیراعظم کی یہ ہدایت عوامی تحفظات کو دور کرنے اور منصفانہ پالیسی کی طرف ایک مثبت قدم ہے، جو پاکستان کی توانائی کی تبدیلی کو مزید مستحکم بنانے میں مدد دے گی۔







Discussion about this post