پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کے سفر میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت طے پا گئی ہے، جسے مستقبل کی مالی سمت کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کی دستخطی تقریب وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خصوصی طور پر شرکت کی، جبکہ اعلیٰ سطحی حکومتی شخصیات بھی موقع پر موجود تھیں۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے امریکا سے آئے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد نے تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ، چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی اور دیگر سینئر حکام بھی شریک تھے۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی وفد کی قیادت ورلڈ لبرٹی فنانشل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زکری وِٹکوف کر رہے تھے، جنہوں نے پاکستان کی ڈیجیٹل سمت میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے وفد کو ڈیجیٹل پاکستان کے وژن سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیحات میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، شفاف نظام اور عام شہریوں تک مالی سہولیات کی آسان رسائی شامل ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور جدید مالیاتی حل کے بغیر جدید معیشت کا تصور ممکن نہیں، اور پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی منڈیوں میں عالمی دلچسپی میں اضافہ خوش آئند پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان بتدریج عالمی ڈیجیٹل فنانس کے نقشے پر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ ورلڈ لبرٹی فنانشل کے سی ای او نے پاکستان میں محفوظ، شفاف اور جدید ڈیجیٹل ادائیگی نظام کے فروغ کے لیے تعاون میں گہری دلچسپی ظاہر کی، اور پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل فنانس میں ایک مضبوط اور ابھرتا ہوا امیدوار قرار دیا۔ اعلامیے کے مطابق حکومتِ پاکستان اور ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کے درمیان اس مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کیے گئے، جس پر پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دستخط کر کے اس شراکت داری کو عملی شکل دی۔






Discussion about this post