وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آئندہ برس مون سون سیزن کے دوران ممکنہ جانی و مالی نقصانات سے بچنے کے لیے فوری طور پر قومی سطح پر تیاریوں کا آغاز کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم کی زیرِ صدارت موسمیاتی تبدیلی کے خطرات اور حفاظتی اقدامات سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق اجلاس میں وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور ہر چند سال بعد موسمیاتی آفات کی وجہ سے جی ڈی پی کا بڑا حصہ غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم نقصانات کا سب سے زیادہ بوجھ اسی ملک کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، وزارتِ منصوبہ بندی اور نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مربوط اور مؤثر حکمتِ عملی تیار کریں تاکہ آئندہ مون سون کے ممکنہ خطرات سے پہلے ہی تیاری مکمل ہو سکے۔ اجلاس میں پانی کے بہتر قومی انتظام کے لیے نیشنل واٹر کونسل کا اجلاس بلانے کی تیاری کی بھی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے قلیل، وسط اور طویل مدتی منصوبوں پر مفصل بریفنگ دی گئی، جس پر وزیرِ اعظم نے قلیل مدتی منصوبے کی فوری منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس پر بلا تاخیر عملدرآمد شروع کیا جائے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق ملک، عطا تارڑ اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی، جبکہ شرکاء کو عالمی موسمیاتی تخمینوں اور آئندہ برس مون سون کے ممکنہ اثرات سے متعلق اہم بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ اگر ملک نے مستقبل کے موسمی جھٹکوں سے بچنا ہے تو خاطر خواہ سرمایہ کاری، فعال ادارہ جاتی تعاون اور بروقت فیصلے ناگزیر ہیں۔







Discussion about this post