وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون کو فروغ دینے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، اور دونوں ممالک اس سمت میں موثر اور عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے ملائیشیا کے معروف بزنس گروپ "گوبی پارٹنرز” کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ وفد کی قیادت گروپ کے شریک بانی اور چیئرمین تھامس ساؤ نے کی۔ ملاقات میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔وزیراعظم نے گزشتہ روز منعقد ہونے والی پاکستان-ملائیشیا بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک مثبت سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس مشترکہ ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومتِ پاکستان ملک میں کاروباری ماحول کو سازگار بنانے اور کاروبار کرنے میں آسانی (Ease of Doing Business) کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکی ہے جو سرمایہ کاری کے ہر مرحلے پر مکمل تعاون اور سہولت فراہم کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم پر گوبی پارٹنرز کا اعتماد خوش آئند ہے۔ حکومت نہ صرف اصلاحات اور سرمایہ کاری کی سہولت پر توجہ دے رہی ہے بلکہ ایک پائیدار اسٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے لیے مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو فعال طور پر شامل کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، خصوصاً فِن ٹیک، ای کامرس، اور آئی ٹی خدمات، قومی ترقی کی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون ہیں۔ اس موقع پر گوبی پارٹنرز کے وفد نے پاکستان میں ای کامرس اور فنانشل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور شراکت داری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیرِ قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی شریک تھے۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نئے معاشی باب کے آغاز کی علامت بن گئی ہے جہاں اعتماد، شراکت اور ترقی ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔







Discussion about this post