وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان، ملائیشیا کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں میں شراکت اور باہمی تعاون کے نئے باب رقم کرنا چاہتا ہے تاکہ دونوں ممالک اپنی صلاحیتوں اور تجربات کو یکجا کر کے مشترکہ ترقی و خوشحالی کے اہداف حاصل کر سکیں۔ کوالالمپور میں اپنے ملائیشین ہم منصب داتوک سری انور ابراہیم سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے پرتپاک استقبال پر دلی تشکر کا اظہار کیا اور ملائیشیا کو اپنا “دوسرا گھر” قرار دیا۔ انہوں نے کہا،
“یہ میرا پہلا دورۂ ملائیشیا ہے، مگر یہاں پہنچتے ہی یہ احساس ہوا کہ جیسے اپنے ہی لوگوں کے درمیان ہوں۔ ہر چہرہ مانوس، ہر مسکراہٹ خلوص سے لبریز، اور فضا دوستی و محبت سے معمور ہے۔ یہ تعلق دلوں کی گہرائیوں سے جڑا ہوا ہےجیسے برسوں سے قائم خاندانی رشتہ ہو۔”
شہباز شریف نے انور ابراہیم کی قیادت، وژن اور غیر معمولی توانائی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ “جس عزم اور بصیرت کے ساتھ انور ابراہیم اپنے ملک کو ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں، وہ قابلِ تقلید ہے۔ ان کی قیادت نے ملائیشیا کو خطے اور عالمی معیشت میں ایک طاقتور حیثیت دلائی ہے۔”
Prime Minister of Pakistan @CMShehbaz and Prime Minister of Malaysia Dato Seri Anwar Ibrahim witness the exchange of memorandums of understanding between Pakistan and Malaysia (06 October 2025)#ShehbazInMalaysia pic.twitter.com/m1iSWjDskN
— PTV News (@PTVNewsOfficial) October 6, 2025
وزیرِاعظم نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان انتہائی نتیجہ خیز گفتگو ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ سے لے کر بین الاقوامی امور تک مختلف نکات پر گہرائی سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً تمام اہم معاملات پر پاکستان اور ملائیشیا کے خیالات ایک جیسے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قدرتی شراکت دار ہیں۔ شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ گزشتہ برس انور ابراہیم کا پاکستان کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی مضبوط بنیاد فراہم کر گیا۔ انہوں نے کہا کہ “آج میں خاص طور پر اس بات پر خوش ہوں کہ وزیرِاعظم انور ابراہیم نے تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے ایک بصیرت افروز وژن پیش کیا ہے۔ ان شعبوں میں ملائیشیا کی کامیابیاں قابلِ رشک ہیں، اور پاکستان ان تجربات سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “پاکستان صرف سیکھنا نہیں چاہتا، بلکہ ملائیشیا کے ساتھ مل کر ایسے مشترکہ منصوبے شروع کرنا چاہتا ہے جو دونوں ممالک کی ترقی، خوشحالی اور عوامی بہبود کے ضامن بنیں۔”
وزیرِاعظم نے بتایا کہ ملائیشیا میں اس وقت تقریباً ڈیڑھ لاکھ پاکستانی محنت و دیانت کے ساتھ مقیم ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انسانی رشتہ ہمارے تعلقات کو اور بھی مضبوط بناتا ہے۔ شہباز شریف نے پرعزم لہجے میں کہا، “مجھے یقین ہے کہ اگر ہم اپنی قوتوں اور وسائل کو یکجا کر لیں تو ترقی، استحکام اور خوشحالی ہمارا مقدر بن جائے گی۔”
ملائیشین وزیرِاعظم داتوک سری انور ابراہیم نے اپنے خطاب میں پاکستانی ماہرین تعلیم اور طلبہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا میں پاکستانی کمیونٹی نہ صرف قابلِ اعتماد ہے بلکہ ہمارے ترقیاتی سفر میں ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملائیشیا نے پاکستان سے چاول کی درآمد میں اضافہ کیا ہے جبکہ سالانہ 200 ملین ڈالر مالیت کے حلال گوشت کی درآمد کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ انور ابراہیم نے شہباز شریف کو “اپنا بھائی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔ پاکستان مسلم دنیا میں ہمیشہ علم و تحقیق کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتا آیا ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ یہ صلاحیت اب بھی زندہ و تابندہ ہے۔”
قبل ازیں وزیرِاعظم شہباز شریف کے اعزاز میں ملائیشیا کی مسلح افواج کے دستے نے شاندار گارڈ آف آنر پیش کیا، دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے، اور وفود کی سطح پر مصافحے اور خیرمقدمی لمحات نے تقریب کو گرمجوشی سے بھر دیا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق، وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحٰق ڈار، وزیرِاطلاعات عطا تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی سمیت اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود تھا۔ روانگی سے قبل شہباز شریف نے کہا تھا کہ یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلقات میں ایک نیا سنگِ میل ثابت ہوگا۔ دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں وزرائےاعظم کے درمیان تجارت، آئی ٹی، حلال انڈسٹری، سرمایہ کاری، تعلیم، توانائی، انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل معیشت اور عوامی روابط کے فروغ پر مفصل گفتگو ہوئی۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے دیرینہ تعلقات کی تجدید اور باہمی احترام، اعتماد اور اشتراکِ عمل پر مبنی شراکت داری کی روشن مثال ہے۔ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور معاشی روابط ہمیشہ بھائی چارے، یکجہتی اور اعتماد کی بنیاد پر استوار رہے ہیں — اور یہ دورہ اس مضبوط تعلق کو ایک نئے سنہری باب میں تبدیل کر رہا ہے







Discussion about this post