پشاور ہائی کورٹ کی طاقتور آواز نے خیبر پختونخوا کی بند سڑکوں پر لگے تالے کھول دیے ہیں ۔ ایک ایسا فیصلہ جو عوام کی تکلیفوں کو سن کر عدالت نے فوری انصاف کی مثال قائم کی ہے۔عدالت کے سخت حکم پر صوبائی پولیس اور انتظامیہ نے بھرپور عملدرآمد کرتے ہوئے صوبے بھر کی تمام اہم شاہراہوں اور موٹرویز کو ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔ صوابی انٹرچینج سے لے کر پشاور-اسلام آباد موٹروی (ایم-1) تک، اٹک پل جی ٹی روڈ جو پنجاب اور خیبر پختونخوا کو جوڑتا ہے، ڈیرہ اسماعیل خان-میانوالی اور چشمہ روٹس، ایم-14 سی پیک یارک ٹول پلازا، ہزارہ موٹروی پر حویلیاں اور مسلم آباد انٹرچینج ، سب جگہ رکاوٹیں ہٹا کر راستے بحال کر دیے گئے ہیں۔ یہ احتجاج پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے بانی کی صحت کے معاملے پر تھا، جس کی وجہ سے گزشتہ چار سے پانچ دنوں تک سڑکیں بند رہیں۔ پشاور ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کو ناقابل برداشت مشکلات کا سامنا ہے، لوگوں کی جانیں خطرے میں پڑ رہی ہیں، ایمبولینسیں اور ضروری سامان نہیں پہنچ پا رہے، اور رولنگ پارٹی اپنے ہی صوبے کے لوگوں کو اذیت دے رہی ہے۔

عدالت نے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو فوری حکم دیا کہ تمام سڑکیں آج ہی کھولی جائیں، کسی کو روکنے کی اجازت نہیں، اور کل تک مکمل رپورٹ جمع کرائی جائے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ٹریفک کی بحالی ہے بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق، آزادیِ حرکت اور زندگی کی حفاظت کی فتح ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس نے عدالت کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے احتجاجیوں کو منتشر کیا اور راستے صاف کیے، جس سے صوبے میں معمول زندگی کی طرف واپسی شروع ہو گئی ہے۔







Discussion about this post