انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سابق صدر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین احسان مانی نے واضح انداز میں کہا ہے کہ اگر پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ بھارتی میڈیا سے گفتگو میں احسان مانی کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی ٹیم حکومتی ہدایات کے تحت بھارت کے خلاف شیڈول میچ کا بائیکاٹ کرتی ہے تو آئی سی سی کے پاس پاکستان کے خلاف کسی کارروائی کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز موجود نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی کھیلوں میں اکثر قومی حکومتوں کی پالیسیوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے، اور ایسے حالات میں کسی ٹیم یا بورڈ کو سزا دینا ناانصافی کے مترادف ہوتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے یاد دلایا کہ بھارت نے بھی اپنی حکومت کے فیصلے کی روشنی میں 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے میچز پاکستان میں کھیلنے سے انکار کیا تھا۔ احسان مانی کے مطابق اگر اس وقت بھارت کے خلاف کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تو اب پاکستان کو سزا دینا کھلا دہرا معیار ہوگا۔ سابق آئی سی سی صدر نے اس معاملے پر عالمی کرکٹ ادارے کے کردار پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی نے اس حساس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کی، جس کے نتیجے میں کھیل میں سیاست کے شامل ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔ احسان مانی نے زور دیا کہ آئی سی سی کو بروقت اور دوٹوک مؤقف اپنانا چاہیے تھا تاکہ مستقبل میں کسی بھی ٹیم کو سیاسی دباؤ یا بائیکاٹ جیسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کے مطابق عالمی کرکٹ کا حقیقی مفاد اسی میں ہے کہ کھیل کو سیاست سے مکمل طور پر الگ رکھا جائے۔








Discussion about this post