خیبر پختونخوا ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں آ گیا، جہاں ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر ہونے والے دو الگ الگ آئی ای ڈی حملوں نے صوبے کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایک بکتر بند گاڑی ملبے کا ڈھیر بن گئی، ایس ایچ او سمیت چھ پولیس اہلکار اور ایک عام شہری شہید ہو گیا، جبکہ تین اہلکار زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے۔ پہلا دھماکا ٹانک کے گومل کے نواحی علاقے میں پیش آیا، جہاں پولیس کی گشت پر مامور اے پی سی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق دھماکا کوٹ ولی سے تقریباً پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا، جس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ بکتر بند گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ واقعے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں اور شہدا و زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں تھانہ گومل کے سربراہ اسحاق احمد خان سمیت چھ پولیس اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔ شہدا میں ایس ایچ او اسحاق احمد خان، اے ایس آئی شیر اسلم خان، ڈرائیور عبدالمجید، ارشد علی، حضرت علی اور احسان اللہ شامل ہیں۔
بعد میں معلوم ہوا کہ دھماکے کی زد میں آ کر ایک راہگیر بھی شدید زخمی ہوا تھا جو اسپتال پہنچنے سے قبل دم توڑ گیا، جس کے بعد شہدا کی تعداد سات ہو گئی، تاہم شہری کی شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی۔ دوسرا افسوسناک واقعہ لکی مروت کے علاقے درہ تنگ میں پیش آیا، جہاں سڑک کنارے نصب بارودی مواد اچانک پھٹ گیا۔ اس دھماکے میں تھانہ صدر کے ایس ایچ او رازق خان سمیت تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے قریب نصب کیا گیا تھا اور اسی راستے سے ڈی پی او لکی مروت کے گزرنے کی بھی اطلاع تھی، کیونکہ وہ اس وقت مختلف پولیس چوکیوں کے معائنے پر تھے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسی مقام سے ایک روز قبل نامعلوم مسلح افراد ایک وکیل کو اغوا کر کے لے گئے تھے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس کی کیفیت مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

ادھر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ٹانک میں پولیس پر حملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے شہید اہلکاروں کے لواحقین اور پولیس فورس سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے ان بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ گورنر کے پی نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام کے تحفظ کے لیے جانیں قربان کرنے والے جوان ہمارا فخر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج کی ایسی بزدلانہ کارروائیاں صوبے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں، مگر یہ ہمارے حوصلے توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر اور عملی اقدامات کرے تاکہ خیبر پختونخوا میں امن بحال رکھا جا سکے۔







Discussion about this post