نئے سال 2026 کے آغاز سے قبل پاکستانی عوام کے رویّے میں ایک خوشگوار تبدیلی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے، جہاں مایوسی کے سائے چھٹتے دکھائی دے رہے ہیں اور امید کی کرنیں روشن ہو رہی ہیں۔ ایک عالمی سطح کے سروے کے مطابق پاکستانی شہری آنے والے سال کو اپنے ملک اور دنیا دونوں کے لیے بہتر مستقبل سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔گیلپ انٹرنیشنل کے سروے کے مطابق عوام کی اکثریت کا ماننا ہے کہ 2026 پاکستان کے لیے معاشی بحالی کا سال ثابت ہو سکتا ہے، جہاں روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور حالات میں بہتری محسوس کی جائے گی۔ اسی امید کے ساتھ پاکستانی شہری دنیا میں امن کے قیام کے لیے بھی پہلے سے کہیں زیادہ پُرامید دکھائی دیتے ہیں، جو ان کے مثبت سوچنے کے انداز کی عکاسی کرتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ امید کے اس سفر میں پاکستانی شہری خطے کے کئی ممالک، بالخصوص بھارت کے عوام سے کہیں آگے نظر آئے۔ جہاں پاکستان میں آدھے سے زیادہ افراد نے معاشی استحکام کی توقع ظاہر کی، وہیں ہمسایہ ملک میں یہ اعتماد خاصا کم دکھائی دیا۔
یہ مریم نواز کا لاہور ہے
روشن، محفوظ اور ترقی کی راہ پر گامزن
نیا سال مبارک ہو pic.twitter.com/JQddyeizSr— صحرانورد (@Aadiiroy2) December 31, 2025
عالمی امن کے حوالے سے بھی پاکستانی رائے واضح طور پر زیادہ حوصلہ افزا رہی۔ سروے کے نتائج یہ اشارہ دیتے ہیں کہ پاکستانی عوام کا مجموعی موڈ غیر معمولی طور پر بلند ہے اور یہ کیفیت گزشتہ کئی دہائیوں میں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آئی۔ ماضی کے اعداد و شمار سے موازنہ کیا جائے تو اس سطح کی امید صرف چند مخصوص ادوار میں ریکارڈ کی گئی تھی، جب قوم مستقبل کے بارے میں نسبتاً زیادہ مطمئن دکھائی دیتی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر دو میں سے ایک پاکستانی نئے سال کو خوش آئند تبدیلیوں کا پیش خیمہ سمجھ رہا ہے، جبکہ ناامیدی کا اظہار کرنے والوں کی تعداد محدود رہی۔ یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ عوامی سوچ میں بتدریج اعتماد واپس آ رہا ہے اور لوگ آنے والے دنوں کو بہتر امکانات سے جوڑ رہے ہیں۔ یہ سروے دنیا کے درجنوں ممالک میں ہزاروں افراد کی رائے پر مشتمل ہے، جو عالمی سطح پر عوامی رجحانات کو جانچنے کی ایک معتبر کوشش سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس عمل کو مقامی سطح پر ایک ایسے ادارے نے انجام دیا ہے جو کئی دہائیوں سے عوامی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے اور رائے عامہ کے اتار چڑھاؤ کا گہرا مشاہدہ رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستانی عوام کا یہ پُرامید رویّہ محض ایک وقتی کیفیت نہیں بلکہ ایک ایسے اعتماد کی علامت ہے جو مشکلات کے باوجود مستقبل کی بہتری پر یقین رکھتا ہے۔ یہی سوچ آنے والے برس میں ملک کے لیے نئے امکانات، نئی سمتوں اور مثبت تبدیلیوں کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔







Discussion about this post