پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات نے ایک نئی کروٹ لے لی ہے، جب اسلام آباد میں ہونے والی اعلیٰ سطحی تقریب کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا گیا۔ اس تاریخی موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف بنفسِ نفیس موجود تھے، اور دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والی یہ تقریب غیرمعمولی اہمیت کی حامل تھی، جہاں بشکیک اور اسلام آباد کو جڑواں شہر قرار دینے کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔ کرغزستان کے صدر کی آمد پر انہیں شاندار گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس نے تقریب کے وقار میں مزید اضافہ کر دیا۔ معاہدوں کے دائرہ کار کو دیکھا جائے تو کان کنی اور جیوسائنسز، سیاحت، توانائی، ثقافت، قانون، سفارت کاری اور نوجوانوں کے امور جیسے اہم شعبے اس تعاون کا حصہ بنے۔ پاکستان فارن سروسز اکیڈمی اور کرغزستان کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر اسحاق ڈار اور کرغز وزیر خارجہ نے دستخط کیے، جبکہ وزارتِ قانون و انصاف کے درمیان بھی اہم قانونی تعاون کو حتمی شکل دی گئی۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام اور کرغز وزارتِ ثقافت و نوجوانان کے درمیان تعاون کا معاہدہ نوجوان نسل کے لیے ایک نیا موقع ثابت ہونے جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے صدر صادر ژپاروف کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور اس دورے کو دو دہائیوں کے بعد ہونے والا تاریخی اور فیصلہ کن دورہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 24 کروڑ عوام کی طرف سے کرغزستان کے معزز مہمان کو سلام پیش کرتا ہوں۔ دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیادیں تاریخ میں پیوست ہیں اور اب وقت ہے کہ ان تعلقات کو عملی اقتصادی شراکت داری میں بدلا جائے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ توانائی، تجارت، ٹرانسپورٹ اور علاقائی روابط میں اشتراک کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ پاکستان-کرغزستان بزنس فورم دوطرفہ معاشی سرگرمیوں کے لیے نئی راہیں کھولے گا۔ انہوں نے پُراعتماد انداز میں اعلان کیا کہ آئندہ دو برسوں میں دوطرفہ تجارتی حجم کو 15 ملین ڈالر سے بڑھا کر 200 ملین ڈالر تک لے جایا جائے گا۔ دوسری جانب صدر صادر ژپاروف نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں کرغزستان کا ایک کلیدی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ مستقبل کے مشترکہ منصوبوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بزنس فورم کو تجارتی روابط بڑھانے میں انتہائی اہم قرار دیا اور پرتپاک استقبال پر حکومتِ پاکستان اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ صدر ژپاروف کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن پاکستان کی معاشی ترقی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے، اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے کاسا 1000 منصوبہ دونوں ممالک کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا اور بتایا کہ اس وقت 12 ہزار پاکستانی طلبہ کرغزستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے گہرے روابط کی ایک زندہ مثال ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو بھی مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن، ترقی اور خوشحالی کے اس سفر میں پاکستان اور کرغزستان شانہ بشانہ آگے بڑھتے رہیں گے۔







Discussion about this post