پاک افواج نے افغان طالبان رجیم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ایک کے بعد ایک تباہ کن کارروائیاں کی ہیں، جن میں سب سے نمایاں بگرام ایئربیس پر حملہ ہے . وہ تاریخی اڈہ جو کبھی امریکہ کی طاقت کا مرکز تھا اور اب طالبان کا سب سے قیمتی اثاثہ۔ پاک فضائیہ کی درست اور طاقتور کارروائی سے بگرام کے ایک ایئرکرافٹ ہینگر اور دو بڑے ویئر ہاؤسز مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جہاں فوجی سامان اور اسلحہ کا ذخیرہ تھا۔ معروف امریکی جریدہ نیویارک ٹائمز نے خود سیٹلائٹ تصاویر حاصل کر کے اس تباہی کی تصدیق کی ہے، جو دنیا کو بتا رہی ہیں کہ پاکستان کا جواب کتنا موثر اور فیصلہ کن تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، افغان طالبان اور ان کے اتحادیوں کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز جلال آباد میں پاک فضائیہ نے ایمونیشن ڈپو اور ڈرونز کے اسٹوریج کو نشانہ بنا کر مزید تباہی مچائی۔ آپریشن غضب للحق , جس کا مطلب ہے "حق کے لیے غضب” یا "انصاف کی آگ” – کامیابی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ اب تک افغان طالبان رجیم کے 400 سے زائد کارندے ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 630 سے زیادہ زخمی ہیں۔ افغانستان کے اندر 51 اہم فوجی مقامات کو فضائی حملوں سے مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔ پاک فوج نے 188 چیک پوسٹوں کو مکمل تباہ کر دیا، جبکہ31 پر قبضہ کر لیا۔ افغان طالبان کے 188 ٹینک، بکتربند گاڑیاں اور توپ خانہ بھی خاک میں ملا دیا گیا۔ وزیر اطلاعات نے تصدیق کی کہ ایک ہفتے میں 50 سے زائد فضائی حملے کیے گئے، جن میں بگرام جیسے اسٹریٹجک اہداف شامل تھے۔امریکی اخبار کے مطابق، افغانستان میں فتنہ الخوارج کی موجودگی کے شواہد اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بارہا سامنے آ چکے ہیں، اور پاکستان اب اس خطرے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم میں مصمم ہے۔ یہ جنگ صرف دفاع نہیں، بلکہ انصاف کی آواز ہے جو سرحد پار گونج رہی ہے۔







Discussion about this post