وفاقی آئینی عدالت نے ایک بار پھر قانون کی بالادستی کو مضبوطی سے تھام کر ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے، جو ٹیکس نظام کی پاکیزگی اور نفاذ کی نئی جہت متعارف کراتا ہے۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں عدالت نے ٹیکس چھاپوں سے متعلق اہم کیس میں واضح اعلان کر دیا کہ ٹیکس حکام کسی بھی وقت، بغیر کسی پیشگی نوٹس کے، کسی بھی جگہ چھاپہ مارنے کے مکمل مجاز ہیں. اس کے لیے ٹیکس دہندہ کے خلاف پہلے سے کوئی مقدمہ چلنا ضروری نہیں۔ عدالت نے بغیر کیس کے چھاپہ غیر قانونی ہونے کی دلیل کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ نے ٹیکس قوانین کے نفاذ کے لیے حکام کو وسیع اور غیر مبہم اختیارات عطا کیے ہیں، اور جہاں قانون کی زبان صریح ہو، وہاں عدالتیں اس میں اپنی مرضی سے کوئی شرط، تخصیص یا تخفیف نہیں ڈال سکتیں۔ یہ فیصلہ سپر ٹیکس کیس کے تناظر میں آیا، جہاں عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل کو مسترد کر دیا اور واضح کیا کہ آمدنی ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن ۱۷۵ کی عبارت بالکل سادہ اور واضح ہے، جو قانون کے کسی بھی حصے کے نفاذ کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے اپنے تحریری فیصلے میں مزید فرمایا کہ کمشنر کو چھاپے کے وقت تحریری طور پر یہ بتانا ہوگا کہ کس قانون کی خلاف ورزی کی بنیاد پر یہ کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ ٹیکس حکام کو کمپیوٹرز، دستاویزات اور اکاؤنٹس پر قبضہ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ٹیکس چوری کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ قانون کی حکمرانی میں کوئی رعایت نہیں، اور ریاست کے وسائل کی حفاظت کے لیے حکام کو جو طاقت دی گئی ہے، وہ استعمال ہوگی بغیر کسی خوف یا پس و پیش کے۔







Discussion about this post