استنبول میں ہفتے کو ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے۔ افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں پر شدید تشویش مذاکرات کو تعطل کی طرف لے گئی تھی۔ مگر جیسے ہی امید کی ڈور ٹوٹنے لگی، ترکیہ اور قطر ایک بار پھر امن کے ضامن بن کر سامنے آئے، اور ان کی کوششوں سے بات چیت کی شمع بجھنے سے بچ گئی۔جمعے کی صبح ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے نے واضح کیا کہ جنگ بندی برقرار رہے گی، جب کہ 6 نومبر کو استنبول میں ہونے والا اعلیٰ سطحی اجلاس اس امن عمل کو مزید تقویت دے گا۔
ایک نئے عہد کی بنیاد
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نہ صرف جنگ بندی پر قائم رہیں گے بلکہ اس کی نگرانی کے لیے ایک "مانیٹرنگ اور توثیقی نظام” بھی قائم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی خلاف ورزی کی فوری نشاندہی اور تادیب ممکن ہو سکے۔ ترکیہ اور قطر نے دونوں ممالک کی فعال شمولیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔
Joint Statement on the Talks Between Afghanistan and Pakistan Through the Mediation of Türkiye and Qatar https://t.co/y1SH30i88Q pic.twitter.com/wH4GW3SC9k
— Turkish MFA (@MFATurkiye) October 30, 2025
طالبان کا مثبت عندیہ
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا،
"جس طرح امارتِ اسلامی دیگر ہمسایوں سے خوشگوار تعلقات چاہتی ہے، اسی طرح وہ پاکستان کے ساتھ بھی باہمی احترام، عدم مداخلت، اور خیرسگالی کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا چاہتی ہے۔”
اسلام آباد کا مؤقف
پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے استنبول مذاکرات کو “روشنی کی کرن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ
“اب امید کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے، اور شاید یہ وہ موڑ ہے جہاں سے امن کی راہ نکل سکتی ہے۔”
انہوں نے ترکیہ اور قطر کے کردار کو “قابلِ احترام اور خیرخواہانہ” قرار دیا، یاد دلاتے ہوئے کہ ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان کے مؤقف کی کھل کر حمایت کی ہے۔
پاکستان کا بنیادی مطالبہ
استنبول مذاکرات کا محور پاکستان کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہ ہونے دے، اور ان کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی واضح کیا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایوں سے امن چاہتا ہے، لیکن دہشت گردی کی سرپرستی برداشت نہیں کرے گا۔
افغان مؤقف اور اختلافی نکات
طالبان وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ٹی ٹی پی کے تمام جنگجوؤں پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتے، تاہم اگر کسی رکن کی موجودگی افغان سرزمین پر ثابت ہوئی تو اسے گرفتار یا ملک بدر کیا جائے گا۔ پاکستان نے اس کے برعکس مطالبہ کیا کہ طالبان ٹی ٹی پی کو باضابطہ دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس کی اعلانیہ مذمت کریں۔
پسِ پردہ سفارت کاری
پانچ روزہ مذاکرات میں زیادہ تر بات چیت ترکیہ اور قطر کی ثالثی کے ذریعے ہوئی۔ ایک سفارتی ذریعے کے مطابق "یہ مذاکرات امن کا فریم ورک ہیں، خود امن نہیں اس کے لیے اعتماد، نگران نظام اور تسلسل درکار ہوگا۔”
سرحدی کشیدگی سے مذاکرات تک
یہ امن پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل سرحد پر جھڑپوں نے حالات کو خطرناک حد تک بگاڑ دیا تھا۔ 11 اکتوبر کی شب افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہو گئے تھے۔ تاہم کئی پیچیدہ مراحل سے گزرنے کے بعد اب دونوں ممالک نے یہ تسلیم کیا ہے کہ بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔
امن کا سفر ابھی باقی ہے
اگرچہ یہ جنگ بندی ایک بڑی کامیابی ہے، مگر منزل ابھی دور ہے۔ بداعتمادی کے بادل ابھی پوری طرح چھٹے نہیں۔ تاہم استنبول معاہدہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ دشمنی کے باوجود امن کی خواہش دونوں دلوں میں زندہ ہے اور شاید یہی وہ خواہش ہے جو خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔







Discussion about this post