خفیہ اطلاعات اور مربوط کارروائیوں کے نتیجے میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں 13 تا 15 اکتوبر کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر موثر ضربیں لگائیں جن میں 34 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائیاں ان خوارج کے خلاف کی گئیں جو بھارتی سرپرستی میں سرگرم تھے۔
آپریشنز کہاں اور کیسے ہوئے؟
-
جنوبی وزیرستان: انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک۔
-
شمالی وزیرستان (اسپن وام): اطلاع پر کی گئی کارروائی میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 18 خوارج مارے گئے۔
-
دیگر علاقوں میں بھی متعدد کارروائیاں عمل میں آئیں جن میں مجموعی طور پر 34 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
حکومتی رد عمل
-
وزیراعظم نے سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے دہشت گردوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے قوم کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستانی عوام کی حفاظت اور ملکی سالمیت کے لیے دہشت گردی کے خلاف اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
-
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے شمالی و جنوبی وزیرستان اور بنوں میں آپریشنز کو قابلِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو جڑ سے ختم کرے گی اور امن و امان کی صورتِ حال بہتر کرنے کے لیے آپریشنز جاری رہیں گے۔
حکمتِ عملی اور پیغام
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں ان عناصر کے خلاف تھیں جو سرحد پار سے حمایت پاتے ہیں اور مقامی امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشتگردی مہم بھرپور رفتار کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔







Discussion about this post