وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے امریکہ کے ساتھ ٹیرف معاہدہ طے پانے کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی سمت دے گا اور سرمایہ کاری کے مواقع میں نمایاں اضافہ کرے گا۔امریکی محکمۂ خزانہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کے دوران، وزیرِ خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی مستحکم معاشی کارکردگی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے امریکی حکام کو بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ چند ماہ میں مالیاتی نظم و ضبط، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور مہنگائی میں کمی کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ملاقات میں ورچوئل اثاثوں (Virtual Assets) سے متعلق نئی قانون سازی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان اب ڈیجیٹل معیشت اور مالیاتی شفافیت کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔محمد اورنگزیب نے امریکا کو تیل و گیس، معدنیات، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان تمام شعبوں میں وسیع مواقع اور پائیدار منافع کی ضمانت دیتا ہے۔بعد ازاں، انہوں نے امریکا پاکستان بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
“پاکستان کی معیشت اب استحکام کے مرحلے سے ترقی کے سفر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مالیاتی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، اور حکومت نجی شعبے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔”
وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی ہی پاکستان کے پائیدار معاشی استحکام کا راستہ ہے، اور حکومت اس ضمن میں صنعتی اصلاحات، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اور تجارتی شراکت داریوں کو فروغ دے رہی ہے۔اس کے علاوہ، سٹی بینک کے نمائندوں سے علیحدہ ملاقات میں سینیٹر محمد اورنگزیب نے بینک کی پاکستان میں جاری شراکت داری کو سراہا اور انہیں اقتصادی اصلاحات، استحکام اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد پاکستان کی پالیسیوں پر مسلسل بڑھ رہا ہے جو کہ معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے







Discussion about this post