ایشیا کپ 2025ء کے سنسنی خیز چھٹے میچ کے بعد اس وقت صورتحال غیر معمولی ہوگئی جب بھارتی کھلاڑی کھیل کے اختتام پر پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملائے بغیر ہی ڈریسنگ روم کا رخ کر گئے۔ کھیل کی دنیا میں اس غیر روایتی اور غیر اخلاقی رویے نے شائقین کرکٹ سمیت سب کو حیران کردیا۔ پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے اس ناروا رویے پر نہ صرف اختتامی تقریب کا بائیکاٹ کیا بلکہ بھارتی پریزنٹر سے بات کرنے سے بھی صاف انکار کردیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر تقریب میں پاکستانی پریزنٹر موجود ہوتا تو وہ ضرور شریک ہوتے، مگر بھارتی کھلاڑیوں کے رویے نے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔

ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ہماری ٹیم میچ کے بعد ہاتھ ملانے کے لیے تیار کھڑی تھی، مگر افسوس بھارتی کھلاڑی میدان چھوڑ کر ڈریسنگ روم میں جا بیٹھے۔ ایسے میں سلمان علی آغا کا ردعمل بالکل فطری اور اصولی تھا۔ پاکستانی ٹیم منیجر نوید اکرم چیمہ نے بھی سخت احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ بھارتی کھلاڑیوں کا ہاتھ نہ ملانا کھیل کی اصل روح اور اسپورٹس مین اسپرٹ کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ٹاس کے وقت میچ ریفری نے کپتانوں کو ہاتھ نہ ملانے کا مشورہ دیا، جس پر سوالات اٹھتے ہیں۔

صورتحال پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی کا ردعمل بھی سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت میچ میں اسپورٹس مین شپ نہ دیکھ کر شدید مایوسی ہوئی۔ کھیل میں سیاست کو شامل کرنا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ یہ کرکٹ کی روح کے خلاف ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُمید ہے آئندہ فتوحات کو تمام ٹیمیں وقار اور خوش اخلاقی کے ساتھ منائیں گی۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ "ایکس” پر اپنے پیغام میں محسن نقوی نے واضح کیا:
’’کھیل میں سیاست کو گھسیٹنا اس کی اصل روح کے منافی اور افسوسناک ہے۔‘‘
دوسری جانب قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ باعزت انداز میں کھیل کو فروغ دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میدان میں احترام اور خوش اخلاقی کی فضاء قائم رہے۔ مگر جب مخالف ٹیم اس بنیادی اصول کی خلاف ورزی کرے، تو پاکستانی ٹیم کا ردعمل ظاہر کرنا ناگزیر ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف اسپورٹس مین اسپرٹ کے بارے میں سنگین سوالات کھڑا کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ کھیل صرف جیت اور ہار کا نام نہیں بلکہ یہ وقار، عزت اور باہمی احترام کی پہچان ہے۔








Discussion about this post