پنجاب شدید طوفانی بارشوں کی لپیٹ میں ہے۔ آسمان سے برستی بوندوں نے لمحوں میں تباہی کا نقشہ کھینچ دیا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں گزشتہ پندرہ گھنٹوں سے جاری بارشوں نے معمولات زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ راولپنڈی میں اب تک ریکارڈ 230 ملی میٹر بارش ہو چکی ہے، جس کے باعث نالہ لئی بپھر گیا۔ خطرناک حد تک بلند پانی کی سطح نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں، سائرن گونج اٹھے، شہریوں کو الرٹ کر دیا گیا۔ پاک فوج صورتِ حال کا جائزہ لینے گوالمنڈی پل پر پہنچ گئی، جب کہ نالہ لئی کے اطراف کی مساجد سے ہنگامی اعلانات کیے جا رہے ہیں تاکہ لوگ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو سکیں۔ چکوال میں تو قدرت نے گویا قہر ڈھایا، کلاؤڈ برسٹ کے باعث صرف 10 گھنٹوں میں 423 ملی میٹر بارش ہوئی، گلیاں، سڑکیں اور میدان سب پانی میں ڈوب گئے۔ منڈی بہاؤالدین میں 210 ملی میٹر بارش نے شہر کو جھیل بنا دیا۔
راولپنڈی کا خطرناک منظر
نالہ لئی کے نیو کٹاریاں مقام پر پانی کی سطح 17 فٹ اور گوالمنڈی پر 18 فٹ تک جا پہنچی، جب کہ خطرے کی حد 20 فٹ ہے یعنی صرف دو فٹ کا فاصلہ بچا ہے۔ شدید بارشوں نے چکلالہ اور راولپنڈی کنٹونمنٹ کے نشیبی علاقوں میں پانی بھر دیا، گھروں میں پانی داخل ہو گیا، بحریہ ٹاؤن فیز 8 کی سڑکیں بھی ندی نالوں میں تبدیل ہوگئیں۔
سرکاری ردعمل اور احتیاطی تدابیر
ضلعی انتظامیہ نے راولپنڈی میں ایک دن کی تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔ افسوسناک طور پر، پنجاب بھر میں مختلف حادثات و سانحات میں 23 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
پی ڈی ایم اے کا ہنگامی الرٹ
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے آج بھی تیز بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ دریاؤں کے بالائی علاقوں، مری اور گلیات سمیت کئی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا شدید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، گجرات، سرگودھا، ملتان، سیالکوٹ سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے واضح ہدایات جاری کی ہیں:
-
تمام مشینری اور عملہ ہائی الرٹ رہے
-
میونسپل ادارے نشیبی علاقوں سے پانی فوری نکالیں
-
ڈپٹی کمشنرز فیلڈ میں موجود رہیں
-
شہری کچے اور کمزور گھروں میں ہرگز نہ رہیں







Discussion about this post