پاک–امریکہ فرینڈز فورم اور ورلڈ واچ الرٹ کا باضابطہ افتتاح ہیوسٹن میں پاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن کے زیراہتمام کیا گیا جس کے ساتھ دو ایسے پلیٹ فارمز کا بھی آغاز ہوا جو پاکستان اور امریکا کے درمیان مکالمے، تحقیق اور میڈیا روابط پر توجہ مرکوز کریں گے۔ افتتاحی تقریب کی صدارت چیئرمین اور سی ای او آصف علی بھٹی نے کی، جنہوں نے ان اقدامات کے پسِ منظر میں موجود وژن بیان کیا اور ایسے قابلِ اعتماد پلیٹ فارمز کی ضرورت پر زور دیا جو مکالمے، باخبر بحث اور ذمہ دارانہ ابلاغ کو فروغ دیں۔ پروگرام میں کلیدی خطاب اسسٹنٹ پرووسٹ اور جان ایچ فپس پروفیسر آف کمیونیکیشن، فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی ڈاکٹر اسٹیفن میک ڈاؤل نے کیا، جنہوں نے بین الاقوامی تعلقات کی تشکیل میں میڈیا اور ابلاغ کے کردار پر روشنی ڈالی۔

فیک نیوز واچ ڈاگ کے بانی ڈاکٹر اسد علی شاہ نے غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے خطرات اور میڈیا میں مضبوط احتساب کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر پلس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ناجیہ اشعر نے کمینونٹیز کو باخبر رکھنے، غلط معلومات کے تدارک میں مشترکہ ذمے داری کے فروغ اور عوامی مکالمے کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔

ایڈوائزری بورڈ کے اراکین کے ریکارڈ شدہ پیغامات میں تعلیمی تعاون، اخلاقی صحافت، ماحولیاتی شعور اور حقائق پر مبنی عوامی شمولیت پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر فیک نیوز واچ ڈاگ کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے جس سے غلط معلومات کے خلاف مشترکہ عزم اور میڈیا احتساب کو مضبوط بنانے کے عہد کی تجدید ہوئی۔

تقریب میں اکیڈمیا، صحافت، ماحولیاتی علوم، کاروبار اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے مقررین نے مختصر طور پر اظہار خیال کیا جو فورم کے بین الشعبہ جاتی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتے ہیں۔

تقریب کا اختتام ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل مہمانِ خصوصی محمد آفتاب چوہدری کے خطاب پر ہوا، جنہوں نے پاک–امریکہ تعلقات کے فروغ میں کمیونٹی شمولیت اور مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اس تقریب کی میزبانی ڈیجیٹل کنٹینٹ کریئیٹر اور پاکستان یوتھ فورم کی بانی علیحہ علی نے کی جنہوں نے مستقبل کی بیانیہ سازی میں نوجوانوں اور میڈیا کے کردار پر زور دیا۔ پاک–امریکہ فرینڈز فورم اور ورلڈ واچ الرٹ سرحدوں کے پار مکالمے، تحقیق اور ذمہ دارانہ کہانی نویسی کے لیے مستقل پلیٹ فارمز کے طور پر خدمات انجام دینے کا عزم رکھتے ہیں۔

تصاویر بشکریہ : کلکس کلپس اینڈ امریکن اردو ٹی وی







Discussion about this post